بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دورہ حدیث کے طالبِ علم اگر دستاربندی کے بعد دوبارہ امتحان دینے کے لیے مدرسہ آئے تو مقیم ہوگا؟


سوال

میں ایک دینی مدرسے کا طالبِ علم ہوں، پورا تعلیمی سال ہم مدرسے میں مقیم رہے،سال کے اختتام پر دستار بندی ہوئی، اس کے بعد ہم باقاعدہ رخصت ہو کر اپنے گھروں کو چلے گئے، اب ہمیں پہلے سے معلوم تھا کہ کچھ دن بعد امتحان ہوگا، چنانچہ ہم امتحان دینے کے لیے دوبارہ مدرسے آئے ہیں، لیکن اس مرتبہ قیام کی نیت صرف پانچ دن کی ہے، دریافت طلب امر یہ ہے کہ  کیا اس صورت میں ہم مسافر شمار ہوں گے اور قصر نماز ادا کریں گے، یا امتحان کا پہلے سے معلوم ہونا ہمیں مقیم قرار دے گا؟ براہِ کرم دلائل کے ساتھ رہنمائی فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں چونکہ سائل مکمل تعلیمی سال مدرسے میں مقیم رہ چکا ہے، اس کا یہ وطن اقامت تب باطل ہوگا جب وہ مستقل طور پر بمع رہائشی سامان کے اسے ترک کرے، لہٰذا جب دستاربندی کے بعد امتحان کے لیے واپسی کی نیت سے گھر گیا ہے، اس لیے واپسی پر وہ مدرسے میں شرعاً مقیم شمار ہوگا، مسافر نہیں، لہٰذا سائل وہاں نماز پوری پڑھے گا، قصر نہیں کرے گا۔

بدائع الصنائع  میں ہے:

"(ووطن) الإقامة ينتقض بالوطن الأصلي؛ لأنه فوقه، وبوطن الإقامة أيضًا؛ لأنه مثله، والشيء يجوز أن ينسخ بمثله، وينتقض بالسفر أيضًا؛ لأن توطنه في هذا المقام ليس للقرار ولكن لحاجة، فإذا سافر منه يستدل به على قضاء حاجته فصار معرضًا عن التوطن به، فصار ناقضًا له دلالةً."

(كتاب الحج، فصل بيان مايسيربه المسافر مقيما، ج:1 ،104، دار الکتب العلمیة)

البحر الرائق میں ہے:

"وفي المحيط: و لو كان له أهل بالكوفة، و أهل بالبصرة فمات أهله بالبصرة و بقي له دور وعقار بالبصرة، قيل: البصرة لاتبقى وطنًا له؛ لأنها إنما كانت وطنًا بالأهل لا بالعقار، ألا ترى أنه لو تأهل ببلدة لم يكن له فيها عقار صارت وطنًا له، وقيل: تبقى وطنًا له؛ لأنها كانت وطنًا له بالأهل والدار جميعًا فبزوال أحدهما لايرتفع الوطن كوطن الإقامة يبقى ببقاء الثقل و إن أقام بموضع آخر."

(كتاب الصلوة، باب صلوة المسافر، باب إقتدمسافربمقيم في الصلوة، ج:2 ،147، دار الکتب الاسلامی)

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر میں ہے:

"وفي محيط السرخسي: لو كان له أهل بالكوفة وأهل بالبصرة فمات أهله بالبصرة و بقي له دور و عقار بالبصرة قيل: البصرة لاتبقى وطنًا له؛ لأنه إنما كانت وطنًا له بالأهل لا بالعقار، ألا ترى أنه لو تأهل ببلدة و لم يكن عقار صارت وطنًا له، و قيل: تبقى وطنًا له؛ لأنه كانت وطنًا له بالأهل والدار جميعًا فبزوال أحدهما لايرتفع الوطن كموطن الإقامة يبقى ببقاء الثقل."

(كتاب الصلوة، باب صلوة المسافر، ج:1، ص:164، دار إحياء التراث العربي)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707101889

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں