
ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی، پھر رجوع کر لیا، کچھ ماہ بعد اس نے دوسری طلاق دی، اور بعد میں اپنی ساس کو فون کر کے کہا:"میں نے آپ کی بیٹی کو طلاق دے دی ہے"۔شوہر کا کہنا ہے کہ اس جملے سے میری مراد پہلی دی گئی طلاق کی اطلاع دینا تھی، کوئی نئی طلاق دینا مقصود نہ تھا۔اب شوہر کہتا ہے کہ میں تین ماہ بعد تیسری طلاق کا لیٹر بھیجوں گا۔
سوال یہ ہے کہ:
1:ساس کو فون کر کے طلاق دینے کا جو جملہ کہا گیا، کیا وہ تیسری طلاق شمار ہوگی؟
2: کیا عدت اسی دن سے شروع ہو جائے گی؟
1:صورت مسئولہ میں اگر واقعۃً شوہر کی نیت مذکورہ جملہ ("میں نے آپ کی بیٹی کو طلاق دے دی ہے")سے اپنی ساس کو دوسری طلاق کی اطلاع مقصود تھی تو اس سے تیسری طلاق واقع نہیں ہوئی۔
2:بیوی کی عدت دوسری طلاق کے بعد شروع ہو چکی ہے۔
فتاو ہندیہ میں ہے:
"ولو قال لها أنت طالق طالق أو أنت طالق أنت طالق أو قال قد طلقتك قد طلقتك أو قال أنت طالق وقد طلقتك تقع ثنتان إذا كانت المرأة مدخولا بها ولو قال عنيت بالثاني الإخبار عن الأول لم يصدق في القضاء ويصدق فيما بينه وبين الله تعالى ولو قال لامرأته أنت طالق فقال له رجل ما قلت فقال طلقتها أو قال قلت هي طالق فهي واحدة في القضاء كذا في البدائع."
(كتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل الأول في الطلاق الصريح، ج:1، ص:355، ط:رشيدية)
وفیہ ایضًا:
"هي انتظار مدة معلومة يلزم المرأة بعد زوال النكاح حقيقة أو شبهة المتأكد بالدخول أو الموت كذا في شرح النقاية للبرجندي."
(كتاب الطلاق، الباب الثالث عشر في العدة، ج:1، ص:526، ط:رشيدية)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144702100332
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن