بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دودھ پیتے بچہ کی وجہ سے ماں کا روزہ چھوڑنا


سوال

میری بیوی کا سی سیکشن (C-section) ہوا ہے ،اس کا نفاس کا خون 15 دن میں بند ہو گیا ہے۔ سی سیکشن میں عموماً نفاس کا خون کم ہو جاتا ہے۔لیکن ابھی وہ اپنے نومولود بچے کو دودھ پلا تی ہے۔ بچہ تقریباً 24 گھنٹوں میں 12 سے 14 مرتبہ دودھ پیتا ہے۔میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ روزہ رکھنے کے بارے میں حنفی فقہ کے مطابق کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی بیوی کو(جو اپنے نومولود بچہ کو دودھ پلاتی ہے)روزہ رکھنے کی صورت میں  اپنی یا بچے کی صحت کےخراب ہونے کاظنِ غالب ہو ، یا کوئی مسلمان، دیندار اور ماہر ڈاکٹر (جو روزے کی اہمیت کو سمجھتا ہو) ماں یا بچے کی صحت کے نقصان کے اندیشےکی بنا پر روزہ نہ رکھنے کا مشورہ دے، تو ایسی حالت میں اس کے لیے دودھ پلانے کے زمانے میں روزہ چھوڑنا شرعاً جائز ہوگا۔ جتنے روزے چھوڑدے گی ،بعد میں ان  کی قضا کرنا لازم ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"(ومنها حبل المرأة، وإرضاعها) الحامل والمرضع إذا خافتا على أنفسهما أو، ولدهما أفطرتا وقضتا، ولا كفارة عليهما، كذا في الخلاصة."

(کتاب الصوم، باب الخامس فی الاَعذار التی تبیح الافطار، ج:1، ص:207، ط:دار الفکر)

حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے: 

"ويجوز الفطر لحامل ومرضع خافت على نفسها نقصان العقل أو الهلاك أو المرض سواء كان على نفسها أو ولدها نسبا أو رضاعا...والخرف المعتبر لإباحة الفطر طريق معرفته أمران أحدهما ما كان مستندا فيه لغلبة الظن فإنها بمنزلة اليقين بتجربة سابقة والثاني قوله أو إخبار طبيب مسلم حاذق عدل عالم بداء كذا في البرهان.
قوله(مسلم)جري علي التقييد بالاسلام في الظهيرية حيث قال:وهوعندي محمول علي المسلم دون الكافر،كمسلم شرع في الصلاة بالتيمم فوعده كافر بالماء لايقطع فلعل غرضه افساد الصلاة عليه فكذافي الصوم۔۔۔قوله(حاذق)له معرفة تامة في الطب فلايجوز تقليدمن له ادني معرفة فيه۔قوله(عدل) جزم باشتراط العدالة الزيلعي".

(كتاب الصوم، فصل في العوارض، ص:684، ط:دار الكتب العلمية)

آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:

”سوال:  جو عورتیں بعد ولادت بچے کو دودھ پلانے والی ہیں، ان میں وہ عورتیں جن کے دُودھ کم آتا ہو ، اگر روزہ رکھیں، دودھ نہ آنے کا یا قلیل ہونے کا گمان ہو جائے ایسی صورت میں روزہ رکھیں یا کیا حکم ہے؟

جواب : اگر بچہ اُوپر کا دودھ پی سکتا ہے یا کسی اور عورت کا دودھ پی سکتا ہے، اس کی ماں کو تو روزہ چھوڑنے کی اجازت چھوڑنے کی اجازت نہیں لیکن اگر بچے کے لئے کوئی اور انتظام نہیں ہو سکتا، تو وہ بھی روزہ قضا کر سکتی ہے، دوسرے وقت رکھ لے۔ “

(کن وجوہات سے روزہ نہ رکھنا جائز ہے،ج:4، ص:567، ط:مکتبہ لدھیانوی)
فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101607

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں