
دادی اپنے پوتے کو اٹھاتی تھی، بچہ جب رونے لگتا تو دادی اس بچہ کے منہ میں اپنی چھاتی دیتی تھی، اس وقت بچہ کی عمر بھی دو سال سے کم تھی، جب کہ دادی کا کہنا ہے کہ میرا دودھ چھ مہینہ یا سال پہلے خشک ہوچکا تھا، اس لیے معلوم نہیں ہے کہ اس بچے کے چوسنے سے دودھ نکلا یا نہیں ، بچے کے منہ میں قطرے گیے یا نہیں؟ دادی بچے کو سال سے بھی زیادہ یہ عمل کراتی رہی تو کیا اس سے حرمت ثابت ہوگی یا نہیں؟ دادی کے اس پوتے کے ساتھ دادی کی نواسی کا نکاح جائز ہوگا یا نہیں؟ نیز بھی بتائیں کہ احتیاط کا تقاضہ کیا ہے؟ کیا مذکورہ رشتہ کرایا جائے یا نہیں؟ دادی اپنے ایک اور پوتے کو بھی پہلے دودھ پلاچکی ہے۔
صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ بچے کی دادی اس کو اپنی چھاتی سے لگاتی تھی، لیکن دادی کا یہ کہنا ہے کہ اس کا دودھ خشک ہوچکا تھا، چھاتی میں دودھ نہیں تھا، اور بچے کے حلق میں دودھ جانے کا یقین یا ظن غالب نہیں ہے، بلکہ اس میں شک ہے تو اس سے حرمتِ رضاعت ثابت نہیں ہوگی،لیکن چوں کہ شبہ موجود ہے، اور ابھی اس لڑکے کا نکاح اپنی بہن کی بیٹی (دادی کی نواسی) سے نہیں ہوا ہے، لہذا احتیاط اسی میں ہے کہ یہ نکاح نہ کیا جائے؛تاکہ کسی قسم کا شک وشبہ نہ رہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(ويثبت به) ولو بين الحربيين بزازية (وإن قل) إن علم وصوله لجوفه من فمه أو أنفه لا غير، فلو التقم الحلمة ولم يدر أدخل اللبن في حلقه أم لا لم يحرم لأن في المانع شكًّا، ولوالجية.
(قوله: فلو التقم إلخ) تفريع على التقييد بقوله إن علم. وفي القنية: امرأة كانت تعطي ثديها صبية واشتهر ذلك بينهم ثم تقول لم يكن في ثديي لبن حين ألقمتها ثدي ولم يعلم ذلك إلا من جهتها جاز لابنها أن يتزوج بهذه الصبية. اهـ. ط. وفي الفتح: لو أدخلت الحلمة في في الصبي وشكت في الارتضاع لا تثبت الحرمة بالشك."
(کتاب الرضاع، 3/ 212، ط:سعید)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"المرأة إذا جعلت ثديها في فم الصبي ولا تعرف أمص اللبن أم لا ففي القضاء لا تثبت الحرمة بالشك وفي الاحتياط تثبت."
(كتاب الرضاع، 1/ 344، ط: رشيدية)
فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے:
’’... شک سے حرمت ثابت نہیں ہوتی، اور احتیاط اور تنزہ یہ ہے کہ اس بچے کا نکاح اس کی اولاد سے نہ کیا جاوے۔۔۔فقط۔‘‘
(فتاوی دارالعلوم دیوبند، ج: 7/ صفحہ: 435 و436، ط: دارالاشاعت)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144706100251
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن