
اگر کسی بندے کو ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ آپ کا پاؤں یا کوئی بھی اہم حصہ کاٹا جائے گا، تب آپ زندہ رہیں گے ورنہ نہیں، تو اگر اس بندے نے ڈاکٹر کی بات نہ مانی معذور ہونے کی وجہ سے اور تاکہ وہ دوسرے پر بوجھ نہ بن سکے اور وہ مرگیا اسی بیماری سے، تو کیا یہ خودکشی ہوگی؟ اور بالکل خودکشی کرنے والے ہی جیسا سلوک ہوگا اس کے ساتھ؟
علاج کی صورت میں شفاء کا ملنا یقنی نہیں ہے، اس لیے مذکورہ صورت میں علاج نہ کرنے کی وجہ سے اگر کوئی مرگیا، تو وہ گناہ گار بھی نہیں ہوگا اور یہ صورت خودکُشی میں بھی داخل نہیں ہوگی۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"الاشتغال بالتداوي لا بأس به إذا اعتقد أن الشافي هو الله تعالى وأنه جعل الدواء سببا أما إذا اعتقد أن الشافي هو الدواء فلا. كذا في السراجية...................ولو أن رجلا ظهر به داء فقال له الطبيب قد غلب عليك الدم فأخرجه فلم يفعل حتى مات لا يكون آثما لأنه لم يتيقن أن شفاءه فيه كذا في فتاوى قاضي خان."
(كتاب الكراهية، ج:5، ص:354، ط:دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100414
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن