بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق علاج نہ کرنے کی صورت میں مرنے والا گناہ گار نہیں


سوال

اگر کسی بندے کو ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ آپ کا پاؤں یا کوئی بھی اہم حصہ کاٹا جائے گا، تب آپ زندہ رہیں گے ورنہ نہیں، تو اگر اس بندے نے ڈاکٹر کی بات نہ مانی معذور ہونے کی وجہ سے اور تاکہ وہ دوسرے پر بوجھ نہ بن سکے اور وہ مرگیا اسی بیماری سے، تو کیا یہ خودکشی ہوگی؟ اور بالکل خودکشی کرنے والے ہی جیسا سلوک ہوگا اس کے ساتھ؟

جواب

علاج کی صورت میں شفاء کا ملنا یقنی نہیں ہے، اس لیے مذکورہ صورت میں علاج نہ کرنے کی وجہ سے اگر کوئی مرگیا، تو وہ گناہ گار بھی نہیں ہوگا اور یہ صورت خودکُشی میں بھی داخل نہیں ہوگی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"الاشتغال بالتداوي لا بأس به إذا اعتقد أن الشافي هو الله تعالى وأنه جعل الدواء سببا أما إذا اعتقد أن الشافي هو الدواء فلا. كذا في السراجية...................ولو أن رجلا ظهر به داء فقال له الطبيب قد غلب عليك الدم فأخرجه فلم يفعل حتى مات لا يكون آثما لأنه لم يتيقن أن شفاءه فيه كذا في فتاوى قاضي خان."

(كتاب الكراهية، ج:5، ص:354، ط:دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707100414

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں