بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 ربیع الاول 1448ھ 23 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈاکٹر کا مریض کو مخصوص لیباٹری میں بھیج کر لیبارٹری والوں سے کمیشن لینے کا حکم


سوال

 پیشہ ور ڈاکٹرز اپنے مریضوں کو علاج کرنے کے دوران ضرورت کے مطابق میڈیکل ٹیسٹ کرتے ہیں،اور وہ یہ ٹیسٹ اپنی طے شدہ لیبارٹریز میں کرواتے ہیں۔ اور اس پر وہ لیبارٹریوں  والے ان کو تقریبا آدھا حصہ جو مریضوں سے لیتے ہیں ڈاکٹرز کو پہنچا دیتے ہیں۔ کیا ایسا کمیشن لینا شرعاً جائز ہے ؟ اور یہ لیبارٹریوں  والے جو ڈاکٹرز کو آدھا حصہ دیتے ہیں وہ روپیہ مریضوں سے ہی وصول کرتے ہیں۔ براہ کرم اس مسئلے پر قران و حدیث کی روشنی میں تفصیلی جواب فرما کر امت کی اصلاح فرمائیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں چوں کہ ڈاکٹر اپنی اجرت فیس کی شکل میں  مریض سےوصول کر لیتا ہے ، اس لیے مذکورہ ڈاکٹروں کا مریض کو مخصوص لیبارٹری بھیج  کر  پھر اس لیبارٹری سے کمیشن لینا جائز نہیں ، کیوں کہ اس کا بوجھ مریض پر ہی پڑتا ہے، ڈاکٹر کا اخلاقاً ،شرعاً اورپیشہ ورانہ فریضہ بنتا ہے کہ مریض کے لیے ایسے ٹیسٹ اور لیبارٹری کا انتخاب کرے جس میں مریض کا ہر اعتبار سے فائدہ ہو اور جس کی قیمت مناسب اور افادیت معیاری ہو، اپنے کمیشن کی خاطر غیر معیاری اور نا قابلِ اعتماد لیبارٹری بھیج دینا یا مریض پر بوجھ ڈالنا یا اسے تکلیف دینا شرعاً و اخلاقاً ناجائز ہے۔الغرض ڈاکٹر اور لیبارٹری کا ایسا گٹھ جوڑ ناجائز ہے اور آمدنی حرام ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(قوله: إن دلني إلخ) عبارة الأشباه إن دللتني. وفي البزازية والولوالجية: رجل ضل له شيء فقال: من دلني على كذا فهو على وجهين: إن قال ذلك على سبيل العموم بأن قال: من دلني فالإجارة باطلة؛ لأن الدلالة والإشارة ليست بعمل يستحق به الأجر، وإن قال على سبيل الخصوص بأن قال لرجل بعينه: إن دللتني على كذا فلك كذا إن مشى له فدله فله أجر المثل للمشي لأجله؛ لأن ذلك عمل يستحق بعقد الإجارة إلا أنه غير مقدر بقدر فيجب أجر المثل، وإن دله بغير مشي فهو والأول سواء".

(‌‌كتاب الإجارة ، باب فسخ الإجارة ج: 6 ص: 95 ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144610101214

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں