
میری ہمشیرہ کے شوہر کا 20دن پہلے انتقال ہو چکاہے، اب میری بہن عدت میں بیٹھی ہے، میرے بہنوئی کی میری بہن سے دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں، ان کی پہلی بیوی کا انتقال ان کی زندگی میں ہی ہو چکا تھا، پہلی بیوی سے ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ میرے بہنوئی کی پہلی بیوی سے جو بیٹا ہے وہ میرے بہنوئی کی تمام جائیداد پر قبضہ کر ناچاہتا ہے، تو کیا میری بہن اپنا اور بچوں کا حصہ لینے کے لیے عدت کے دوران عدالتی کاروائی کرے لیے جا سکتی ہے؟ جب کہ عدالت نہ جانے کی صورت میں اپنے اور بچوں کے حصہ سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔
صورت مسئولہ میں اگر سائل کی بہن کا کام گھر سے نکلے بغیر کسی اور طریقے سے ہو جائے تو اس کے لیے دوران عدت گھر سے نکلنا جائز نہ ہو گا، البتہ اگر عدالت جائے بغیر کام نہ ہوتا ہو اور عدالت میں پیش نہ ہونے کی صورت میں اس کے اور بچوں کے حصے سے محرومی ، حق تلفی اور ان پرظلم کا امکان ہو،تواس شدید مجبوری میں عدت کے دوران اس عدالت جانے کی گنجائش ہو گی۔
فتاوی شامی میں ہے:
(وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولايخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لاتجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه."
(كتاب الطلاق ،باب العدة،فصل في الحداد ،ج:3، ص:536،ط: سعید)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:
"قوله: ومعتدة الموت تخرج يوما وبعض الليل" لتكتسب لأجل قيام المعيشة؛ لأنه لا نفقة لها حتى لو كان عندها كفايتها صارت كالمطلقة فلا يحل لها أن تخرج لزيارة ولا لغيرها ليلًا ولا نهارًا. و الحاصل: أنّ مدار الحلّ كون خروجها بسبب قيام شغل المعيشة فيتقدر بقدره فمتى انقضت حاجتها لايحلّ لها بعد ذلك صرف الزمان خارج بيتها، كذا في "فتح القدير."
(باب العدة، ج:4، ص:255، ط:مکتبہ رشیدیہ)
فقط اللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100557
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن