
ہماری شادی کو تقریباً پانچ سال ہونے کو ہیں۔ تقریباً سات ماہ قبل میں نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دی تھیں، جن کے الفاظ یہ تھے: ”آپ کو طلاق دیتا ہوں، آپ کو طلاق دیتا ہوں۔“ لیکن میری بیوی نے اسے ایک ہی مرتبہ سنا تھا۔
اس کے بعد تقریباً ایک ماہ گزرا تو میں نے عملی طور پر اپنی بیوی سے رجوع کر لیا، اور ہمارے درمیان جسمانی تعلقات بھی قائم ہوئے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا نکاح برقرار ہے؟
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل نے مذکورہ دو طلاقوں کے علاوہ مزید کوئی طلاق نہیں دی، نہ طلاق کے اس واقعے سے پہلے اور نہ بعد میں، تو چوں کہ ان دو طلاقوں کے بعد سائل نے اپنی بیوی سے رجوع کر لیا تھا، اس لیے اب دونوں کا نکاح برقرار ہے۔ البتہ آئندہ کے لیے سائل کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار باقی ہے، آئندہ کبھی اگر خدانخواستہ سائل نے تیسری طلاق بھی دیدی تو بیوی سائ پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائے گی،لہذا آئندہ کے لیے خوب احتیاط کی ضرورت ہے۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"وإذا طلق الرجل إمرأته تطليقةً رجعيةً او تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض، كذا في الهداية."
(کتاب الطلاق، الباب السادس، ج:1، ص:470، ط:المكتبة الرشيدية كوئته)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705100281
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن