
میں اور میری بیوی کے درمیان خوشی سے وقت چل رہا تھا عید کے دن میری بیوی نے مجھے گھمانے کا کہا ،تو میں نے کیا کہ آپ کے ابوآئیں گے تو ان کے ساتھ چلی جانامیں کچھ کام کر لوں،اس بات پر وہ ناراض ہوگئی اور منہ بنا لیا،پھر میں اپنی بہن کو سمجھا رہا تھا تو میری بیوی نے ہمارے درمیان دخل اندازی کی تو میں نے دو مرتبہ ڈرانے کے لئے اس کو کہا "تجھے طلاق ہے ، تجھے طلاق ہے"پھر میں نےکہا کہ اگر تم باز نہ آئی تو ایک اور طلاق بھی دے دوں گا،تو اب بتائیں طلاق کتنی واقع ہوئی اور کیا ہم میاں بیوی ساتھ رہ سکتے ہیں یا نہیں؟
صورت مسئولہ میں سائل کہ یہ الفاظ "تجھے طلاق ہے ""تجھے طلاق ہے"ان سے دو طلاق رجعی واقع ہوچکی ہیں، عدت کے دوران شوہر اگر رجوع کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، البتہ اگر عدت گزر گئی اور رجوع نہیں کیاتو عدت گزرنے سے نکاح ٹوٹ جائے گاپھر باہمی رضامندی سے نیا مہر مقرر کرکے گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنا ہوگا، لیکن واضح رہے کہ رجوع یا نکاح جدید کرنے کے بعد اب شوہر کو صرف ایک طلاق دینے کا اختیار باقی ہوگا ۔
فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
"وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية."
(کتاب الطلاق،الباب السادس في الرجعة وفيما تحل به المطلقة وما يتصل به، ج1، ص:470، ط:المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق مصر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144610100536
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن