
میرے اور بھائی کے درمیان لڑائی ہو رہی تھی،اس دوران میری بیوی ہمیں چھڑانے کے لیے آ گئی، اس وقت غصہ کی حالت میں میں نے دو مرتبہ یہ الفاظ بیوی سے کہہ دیئے”میں طلاق دیتا ہوں تمہیں،میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“کیا ایسی صورت میں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں؟ یا نہیں؟اگر واقع ہوگئی ہیں تو میں رجوع کرسکتا ہوں؟
نوٹ:طلاق دیتے وقت طلاق کا ارادہ اور نیت بالکل نہیں تھی۔اور اس واقعہ کو چار پانچ دن ہوگئے ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں جب سائل نےاپنی بیوی کو یہ الفاظ”میں طلاق دیتا ہوں تمہیں،میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“کہے تو ان الفاظ سے اس کی بیوی پر دو طلاق رجعی واقع ہوگئی ہیں، جس کا حکم یہ ہے کہ عدت کے دوران سائل اگر رجوع کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، اور رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ زبان سے کہہ دے کہ ”میں نے رجوع کرلیا“ تو رجوع ہوجائے گا، اور اگر زبان سے کچھ نہ کہے، مگر آپس میں میاں بیوی کا تعلق قائم کرلے یا خواہش اور رغبت سے اس کو ہاتھ لگالے، تب بھی رجوع ہو جائے گا، البتہ اگر عدت گزر گئی تو نکاح ٹوٹ جائے گاپھر باہمی رضامندی سے نیا مہر مقرر کرکے گواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنا ہوگا،نیز رجوع یا نکاحِ جدید کرنے کے بعد سائل کے پاس صرف ایک طلاق دینے کا اختیار باقی ہوگا ۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"أما الصريح فهو اللفظ الذي لا يستعمل إلا في حل قيد النكاح، وهو لفظ الطلاق أو التطليق مثل قوله: " أنت طالق " أو " أنت الطلاق، أو طلقتك، أو أنت مطلقة " مشددا، سمي هذا النوع صريحا؛ لأن الصريح في اللغة اسم لما هو ظاهر المراد مكشوف المعنى عند السامع من قولهم: صرح فلان بالأمر أي: كشفه وأوضحه، وسمي البناء المشرف صرحا لظهوره على سائر الأبنية، وهذه الألفاظ ظاهرة المراد؛ لأنها لا تستعمل إلا في الطلاق عن قيد النكاح فلا يحتاج فيها إلى النية لوقوع الطلاق؛ إذ النية عملها في تعيين المبهم ولا إبهام فيها."
(کتاب الطلاق، فصل في النية في أحد نوعي الطلاق وهو الكناية، ج:3، ص:101، ط: دارالکتب العلمیة)
فتاوی شامی میں ہے:
"هذا بيان لشرط الرجعة، ولها شروط خمس تعلم بالتأمل شرنبلالية، قلت: هي أن لا يكون الطلاق ثلاثا في الحرة، أو ثنتين في الأمة ولا واحدة مقترنة بعوض مالي ولا بصفة تنبئ عن البينونة - كطويلة، أو شديدة -، ولا مشبهة كطلقة مثل الجبل، ولا كناية يقع بها بائن. ولا يخفى أن الشرط واحد هو كون الطلاق رجعيا، وهذه شروط كونه رجعيا متى فقد منها شرط كان بائنا كما أوضحناه أول كتاب الطلاق."
(کتاب الطلاق، باب الرجعة، ج:3، ص:400، ط:سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144701101859
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن