
میری اپنی اہلیہ سے لڑائی ہوئی ، اس دوران میں نے اپنی والدہ سے اہلیہ کے متعلق کہا:"ماطلاقہ کڑی دہ" جس کا ترجمہ ہے: "میں نے مطلقہ کردی"، دو مرتبہ کیا ، پھر والدہ نے روکا کہ طلاق اس طرح نہیں ہوئی جس پر میں نے کہا کہ"خوشی سے دی ہے"، براہ ِکرم راہ نمائی کریں کہ کتنی طلاقیں ہوئی ہیں؟
صورت مسئولہ میں سائل کے دو مرتبہ یہ الفاظ "ماطلاقہ کڑی دہ" (میں نے مطلقہ کردی) کہنے سے سائل کی بیوی پر دو طلاقویں واقع ہوگئی ہیں، عدت (پوری تین ماواریاں اگر حمل نہ ہو اگر حمل ہو تو بچہ کی پیدائش تک) کے دوران شوہر کو رجوع کرنے کا حق ہے،اگر عدت کے اندر رجوع نہیں کیا عدت کے بعد دوبارہ نئے سرے سے دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر اور نئے ایجاب وقبول کے ساتھ نکاح کرنا ہوگا۔
رجوع کا سنت طریقہ یہ ہے کہ شرعی گواہوں کی موجودگی میں زبان سے یہ کہہ دے کہ میں نے تم سے رجوع کیا تو اس سے رجوع ہوجائے گا اور رجوع یا تجدید نکاح دونوں صورتوں میں شوہر کو آئندہ کے لیے مزید صرف ایک طلاق کا اختیار ہوگا، لہذا آئندہ کے لیے خوب احتیاط کی ضرورت ہے، آئندہ کبھی تیسری طلاق بھی دے دی تو بیوی اپنے شوہر پر حرمت مغلظ کے ساتھ حرام ہوجائے گی۔
نیز والدہ کے جواب میں یہ الفاظ کہنے " خوشی سے دی ہے" سے کوئی طلاق واقع نہیں ہے۔
مبسوط سرخسی میں ہے:
"وإذا طلقها واحدة في الطهر أو في الحيض أو بعد الجماع فهو يملك الرجعة مادام في العدة لأن النبي صلى الله عليه وسلم «طلق سودة - رضي الله تعالى عنها - بقوله اعتدي ثم راجعها» «وطلق حفصة رضي الله عنها ثم راجعها بالوطء» ويستوي إن طالت مدة العدة أو قصرت لأن النكاح بينهما باق ما بقيت العدة وقد روي أن علقمة رضي الله عنه طلق امرأته فارتفع حيضها سبعة عشر شهرا ثم ماتت فورثه ابن مسعود رضي الله عنه منها وقال إن الله تعالى حبس ميراثها عليك فإذا انقضت العدة قبل الرجعة فقد بطل حق الرجعة وبانت المرأة منه، وهو خاطب من الخطاب يتزوجها برضاها إن اتفقا على ذلك.ـ"
(کتاب الطلاق،باب الرجعۃ، ج:۶،ص:۱۹، دار المعرفۃ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100902
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن