
میں نے دو مرتبہ اپنی بیوی کو کہا: تم مجھ پر طلاق ہو ، تم مجھ پر طلاق ہو، (پشتو میں: تہ پہ ما طلاقہ ای، تہ پہ ما طلاقہ ای)، اس کے بعد میں نے بیوی کو کہا: اب تم مجھ پر حرام ہو گئی ہو، جاؤ، (پشتو میں : اس را باندے حرامہ شوے،اس زہ)
حرام والے الفاظ میں سائل کی نیت طلاق کی نہیں تھی، بس بیوی کو خبر دار کر رہا تھا کہ بس جاؤ، اور مجھے گناہ گار نہ بناؤ۔
صورتِ مسئولہ میں جب شوہر نے اپنی بیوی کو یہ کہا:تم مجھ پر طلاق ہو ، تم مجھ پر طلاق ہو، پھر کہا: اب تم مجھ پر حرام ہو گئی ہو ، جاؤ تو ایسی صورت میں بیوی پر دو طلاقِ بائن واقع ہو گئی، ساتھ رہنے کے لیے نئے مہر کے ساتھ شرعی گواہان کی موجودگی میں نیا نکاح کرنا ضروری ہو گا۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"ولو طلق امرأته تطليقة يملك الرجعة ثم قال لها قبل انقضاء العدة: قد جعلت تلك التطليقة التي أوقعتها عليك ثلاثا أو قال قد جعلتها بائنا اختلف أصحابنا الثلاثة فيه قال: أبو حنيفة يكون ثلاثا ويكون بائنا."
(کتاب الطلاق، فصل في النية في أحد نوعي الطلاق وهو الكناية، جلد:3، صفحه: 104، طبع: دار الکتب العلمیة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144501101750
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن