
ایک عورت کو اس کے شوہر نے دو طلاقیں دی ہیں، اور اس کے رشتہ داروں نے اسے کہا کہ طلاق واقع نہیں ہوئی۔ چنانچہ اس عورت نے عدت بھی نہیں گزاری اور دوبارہ شوہر کے ساتھ رہنے لگی۔ کچھ عرصے بعد اس کا شوہر اسے چھوڑ کر چلا گیا، اور وہ عورت بچوں کو لے کر کہیں اور رہنے لگی۔ اب یہ عورت بغیر عدت گزارے دوسری شادی کرنا چاہتی ہے، تو کیا وہ بغیر عدت کے دوسرا نکاح کر سکتی ہے؟ یا اسے عدت گزارنی ہوگی؟ راہ نمائی فرمائیں۔
وضاحت:طلاق کے الفاظ یہ ہیں: ”میں نے تجھے طلاق دی، میں نے تجھے طلاق دی“۔ ان دو طلاقوں کے بعد میاں بیوی الگ الگ رہنے لگے۔مذکورہ عورت کے بیان کے مطابق شوہر نے عدت کے دوران رجوع نہیں کیا، یعنی شوہر نے عدت کے دوران نہ اس سے بات کی اور نہ ملاقات کی۔شوہر طلاق دینے کے ڈیڑھ سال بعد اپنی بیوی کے ساتھ رہنے لگا۔
صورت مسئولہ میں جب شوہر نے اپنی بیوی کو صریح الفاظ کے ساتھ دوبار ان الفاظ سے طلاق دے دی کہ میں نے تجھے طلاق دی ،میں نے تجھے طلاق دی ، تو اس کی بیوی پر دو طلاقیں رجعی واقع ہوگئی تھیں ، طلاق رجعی کے بعد شوہر کے لئےاپنی بیوی کی عدت (تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہواور اگر حمل ہوتو بچے کی پیدائش تک) میں رجوع کرنے کا حق تھا لیکن شوہر نے عدت میں رجوع نہیں کیا جیسا کہ سوال میں درج ہے،تو ایسی صورت میں عدت گزرتے ہی نکاح ختم ہوگیا تھا، اور اس کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں رہی، لہذا مذکورہ عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے،البتہ عدت کے بعد شوہر کا ساتھ رہنا حرام تھا ،اس پر توبہ استغفار لازم ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"فالحکم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد ولا يصح ظهاره، وإيلاؤه ولا يجري اللعان بينهما ولا يجري التوارث ولا يحرم حرمة غليظة حتى يجوز له نكاحها من غير أن تتزوج بزوج آخر؛ لأن ما دون الثلاثة - وإن كان بائنا - فإنه يوجب زوال الملك لا زوال حل المحلية."
(کتاب الطلاق، فصل فی حکم الطلاق البائن،ج:3، ص:187، ط: دار الكتب العلمية)
فتاوی شامی میں ہے :
"(وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب".
(کتاب الطلاق،ج:3،ص:409،ط،سعید )
فتاوی شامی میں ہے:
"(هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) ... (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة) كمس.
(قوله: بنحو راجعتك) الأولى أن يقول بالقول نحو راجعتك ليعطف عليه قوله الآتي وبالفعل ط، وهذا بيان لركنها وهو قول، أو فعل... (قوله: مع الكراهة) الظاهر أنها تنزيه كما يشير إليه كلام البحر في شرح قوله والطلاق الرجعي لا يحرم الوطء رملي، ويؤيده قوله في الفتح - عند الكلام على قول الشافعي بحرمة الوطء -: إنه عندنا يحل لقيام ملك النكاح من كل وجه، وإنما يزول عند انقضاء العدة فيكون الحل قائماً قبل انقضائها. اهـ. ... (قوله: كمس) أي بشهوة، كما في المنح".
(کتاب الطلاق،ج:3،ص:397،ط،سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101582
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن