
اگر سنت مؤکدہ یا غیر مؤکدہ کی بعد والی دو رکعات میں سے کسی میں کوئی حدث واقع ہو مثلاً وضو ٹوٹنا، آواز کے ساتھ ہنسی (ضحک)، یا کلام وغیرہ تو اس صورت میں کیا پہلی دو رکعات ادا مانی جائیں گی یا نہیں ؟
ایسی صورت میں سنتِ موٴکدہ پوری دوبارہ پڑھی جائے گی، نفل اور غیرموٴکدہ سنتیں دو ہی پڑھ لینا جائز ہے۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(قراءة فاتحة الكتاب)...(في الأوليين من الفرض) وهل يكره في الأخريين؟ المختار لا (و) في (جميع) ركعات (النفل) لأن كل شفع منه صلاة.
(قوله لأن كل شفع منه صلاة) كأنه والله أعلم لتمكنه من الخروج على رأس الركعتين، فإذا قام إلى شفع آخر كان بانيا صلاة على تحريمة صلاة، ومن ثمة صرحوا بأنه لو نوى أربعا لا يجب عليه بتحريمتها سوى الركعتين في المشهور عن أصحابنا، وأن القيام إلى الثالثة بمنزلة تحريمة مبتدأة، حتى أن فساد الشفع الثاني لا يوجب فساد الشفع الأول."
(کتاب الصلاۃ، ج:1، ص:458، ط:سعید)
وفیه أیضاً:
"(وسن) مؤكدا (أربع قبل الظهر و) أربع قبل (الجمعة و) أربع (بعدها بتسليمة) فلو بتسليمتين لم تنب عن السنة.
(قوله لم تنب عن السنة) ظاهره أن سنة الجمعة كذلك".
(کتاب الصلاۃ، باب الوتر والنوافل، ج:2، ص:13، ط:سعید)
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:
"دو رکعات کے بعد وضو ٹوٹ جانے کے بعد کتنی رکعتیں دوبارہ پڑھے؟
سول:… فرض، سنت اور نفل چار رکعت کی نیت کی، دو رکعت کے بعد وضو ٹوٹ گیا، تو وہ چار رکعت پڑھے یا دو رکعت پڑھے؟ کیونکہ وہ دو رکعت پڑھ چکی ہے، اور کسی سے بات بھی نہیں کی، فوراً وضو کرلیا۔
جوب:… فرض، وتر اور سنتِ موٴکدہ تو پوری دوبارہ پڑھے، نفل اور غیرموٴکدہ سنتیں دو ہی پڑھ لینا جائز ہے۔
(نماز میں وضو کا ٹوٹ جانا، ج:3، ص:576، ط:مکتبہ لدھیانوی)
فقط اللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706102292
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن