بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دو مسلمانوں کی ملاقات کی فضیلت سے متعلق حدیث کی تخریج وتحقیق


سوال

ایک حدیث بیان کی جاتی ہے کہ ”جب دو مسلمان ملاقات کرتے ہیں، تو اللہ کی طرف سے سو  رحمتیں اترتی ہیں، ایک کم سو ، یا دس کم سو،  اس کو ملتی ہیں جو زیادہ گرم جوشی سے ملتا ہے“۔ کیا یہ حدیث ٹھیک ہے؟

جواب

سوال میں مذکورہ  روایت درحقیقت ایک روایت نہیں، بلکہ یہ در اصل دو مختلف احادیث ہیں، جو دو مختلف صحابہ سے مروی ہیں۔  

1۔ ”مسند البزار“ اور”شعب الإيمان“ میں یہ حدیثحضرت عمر رضی اللہ عنہ سے،   عمر بن عامر کے واسطے سے مروی ہے، ”مسند البزار“ کی روایت الفاظ   درج ذیل ہیں:

«حدثنا محمد بن مرزوق بن بكير قال: نا عمر بن عمران السعدي أبو حفص قال: نا عبيد الله بن الحسن قاضي البصرة قال: نا سعيد الجريري، عن أبي عثمان النهدي قال: سمعت عمر بن الخطاب يقول قال: رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا التقى الرجلان المسلمان فسلَّم أحدهما على صاحبه، فإن أحبَّهما إلى الله أحسنهما بِشْرًا بصاحبه، فإذا تصافحا نزلت عليهما مائة رحمة،للباديمنهماتسعونوللمصافحعشرة»، وهذا الحديث لا نعلمه يروى عن النبي صلى الله عليه وسلم إلا من هذا الوجه بهذا الإسناد، ولم يتابع عمر بن عمران على هذا الحديث».

(مسند البزار، تحقيق: محفوظ الرحمن زين الله، مكتبة العلوم والحكم، المدينة المنورة، ١٩٨٨م، رقم: ٣٠٨، ١/٤٣٧)

حضرت عمر کی حدیث  کی اسنادی حیثیت:

اس روایت کے روایوں میں عمر بن عمران ابو حفص سعدی کا درست نام عمر بن عامر ہے، جیسا کہ اس حدیث کے دیگر طرق سے واضح ہوتا ہے، اور عمر بن عامر ضعیف اور متہم بالوضع راوی ہے۔  چونکہ عمر بن عمران نامی کوئی راوی کتبِ رجال میں نہیں ملتا، اس لیے  ہیثمی اس روایت کے بارے میں کہتے ہیں:

«رواه البزار، وفيه من لم أعرفهم».

(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، تحقيق: حسين سليم أسد الداراني، دار المنهاج، جدة، ١٦/٩٢، رقم ١٢٧٩٩)

حدیث سے متعلق بزار کے مذكورہ بالا کلام سے بھی یہ مستفاد ہوتا ہے کہ یہ عمر بن عمران (عمر بن عامر) کا تفرد ہے۔ یاد رہے کہ متہم بالوضع راوی کا تفرد قابلِ قبول نہیں۔ بظاہر  امام بزار  کا مقصد، حدیث کی اسی علت کی طرف اشارہ کرنا ہے۔

2۔ طبرانی نے ”المعجم الأوسط“ میں اس حدیث کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے  روایت کیا ہے:

"حدثنا محمد بن موسى الإصطخري، نا الحسن بن كثير، عن يحيى بن أبي كثير، عن عبد الله بن يحيى بن أبي كثير، عن أبيه، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن المسلمين إذا التقيا فتصافحا وتساءلا أنزل الله بينهما مائة رحمة،تسعةوتسعينلأبشهما، وأطلقهما، وأبرهما، وأحسنهما مساءلة بأخيه»."

(المعجم الأوسط، تحقيق: أبو معاذ طارق بن عوض الله، دار الحرمين، القاهرة، ١٤١٥هـ، رقم: ٧٦٧٢، ٧/٣٤١)

حضرت ابو ہریرہ سے مروی حدیث  کی اسنادی حیثیت:

محمد بن موسی اصطخری، اور  الحسن بن كثیر مجہول راوی ہیں۔ نیز  یحیی بن ابی کثیر سے مراد یحیی بن مسمع ہے، جو مجہول راوی ہے۔حافظ منذری نے اس حدیث کی سند کو ضعیف قرار دیا ہے ، حافظ منذری لکھتے ہیں:

«رواه الطبراني بإسناد فيه نظر».

(الرغيب والترهيب، تحقيق: مصطفى محمد عمارة، دار إحياء التراث العربي، بيروت، ١٣٨٨هـ، ٣/٤٣٣)

حاصل یہ ہے کہ دونوں احادیث کی اسانید میں شدید کمزور درجے کی ہیں، اور فنِ اصولِ حدیث کی رو سے ایک دوسرے کی تقویت کا باعث نہیں بن سکتیں، اس لیے  جب تک کوئی اور معتبر سند نہ مل جائے اس روایت کو بیان کرنے سے احتراز کیا جائے۔ 

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701100324

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں