
ہم پاکستان میں پاکستانی کرنسی کا چیک صراف کو دیتے ہیں، اور اسی کے ذریعے صراف سے دراہم خریدتے ہیں، جو وہ ہمیں دبئی میں چیک کی صورت میں ادا کرتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ مذکورہ طریقۂ کار شریعت کی رو سے درست ہے یا نہیں؟
دو مختلف ممالک کی کرنسیوں کی خرید و فروخت کے صحیح ہونے کے لیے عوضین پر ایک ہی مجلس میں قبضہ کرنا شرعا ضروری ہوتا ہے، کسی ایک جانب یا دونوں جانب کرنسی مجلس عقد میں موجود نہ ہونے کی صورت میں معاملہ سودی ہو جاتا ہے۔
لہذاصورتِ مسئولہ میں چیکوں کے ذریعے کرنسیوں کی خرید و فروخت جائز نہیں ہوگی۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(هو) لغةً: الزيادة. وشرعاً: (بيع الثمن بالثمن) أي ما خلق للثمنية ومنه المصوغ (جنساً بجنس أو بغير جنس) كذهب بفضة، (ويشترط) عدم التأجيل والخيار و (التماثل) أي التساوي وزناً، (والتقابض) بالبراجم لا بالتخلية (قبل الافتراق)، وهو شرط بقائه صحيحاً على الصحيح، (إن اتحد جنساً وإن) وصلية (اختلفا جودةً وصياغةً) ؛ لما مر في الربا (وإلا) بأن لم يتجانسا (شرط التقابض) لحرمة النساء، (فلو باع) النقدين (أحدهما بالآخر جزافاً أو بفضل وتقابضا فيه) أي المجلس (صح)."
(کتاب البیوع، باب الصرف،ج:5،ص:257/259، ط:سعيد)
فتاوی بینات میں ہے:
”جس طرح حقیقی زر سونا اور چاندی کی بیع میں متحد الجنس ہونے کی صورت میں برابری اور تقابض ضروری ہے، اسی طرح باتفاق علماء و اہل حق رائج الوقت کرنسی نوٹ، اور کاغذی سکہ میں بھی متحد الجنس و نوع کی صورت میں برابری اور تقابض ضروری ہے، مثلاً ایک ڈالر کے عوض دو ڈالر کی بیع جائز نہیں ، ایک پونڈ کے عوض دو پونڈ کی بیع جائز نہیں ہے۔ علیٰ ہذا القیاس تمام ممالک کے کاغذی سکوں کا حکم ہے، ہر ملک کا سکہ الگ الگ جنس ثمن ہے ایک ملک کے مساوی سکہ میں تفاضل ربوا اور سود ہوگا، مثلاً ایک ڈالر کے بدلہ میں دو ڈالر ایک ریال کے بدلہ میں دو ریال،ایک پونڈ کے بدلہ میں دو پونڈ ایک روپیہ کے بدلہ میں دو روپیہ یا ایک روپیہ کچھ پیسے ۔لیکن مختلف ممالک کے سکے مختلف جنس کے حکم میں ہونے کی وجہ سے اس میں تفاضل جائز ہے ، اور ہوتا بھی یہی ہے، مثلاً ایک ڈالر کے بدلہ میں ۱۶؍روپے ایک ریال کے بدلہ میں چار روپے ، تاہم نقداً بنقدٍ ہونا ضروری ہے ادھار جائز نہیں ہے کیونکہ یہ حقیقی ثمن سونا اور چاند ی کے حکم میں ہیں، لہٰذا مختلف ممالک کے سکوں کی جب ہوتو دست بدست ہونا ضروری ہے۔“
(کتاب الزکوٰۃ ، ج:2، ص:675، ط:مکتبہ بینات)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706102103
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن