
میری بیٹی اپنی خالہ کے گھر تھی کہ اسی دوران اس کا شوہر آیا اور اس نے کہا:"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" یعنی یہ الفاظ دو مرتبہ کہے اور پھر وہاں سے چلا گیا۔ اس کے تقریباً دو گھنٹے بعد وہ میری ساس کے گھر آیا اوربیوی سے کہا:"اگر تم نے شام تک مجھ سے فون پر بات نہ کی تو میری طرف سے طلاق ہے۔" میری بیٹی نے شام تک اسے فون نہیں کیا۔ اب سوال یہ ہے کہ میری بیٹی پر کتنی طلاقیں واقع ہوئیں؟
صورتِ مسئولہ میں جب آپ کی بیٹی کے شوہر نے اس سے دو مرتبہ یہ الفاظ کہے کہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" تو سائلہ کی بیٹی پر دو طلاقیں واقع ہوگئیں، اس کے بعد جب شوہر نےسائلہ کی بیٹی سے کہا کہ شام تک مجھ سے بات نہیں کی تو میری طرف سے طلاق ہے تو اس سے سائلہ کی بیٹی پر تیسری طلاق بھی واقع ہوگئی،اس طرح مجموعی طور پر اس پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں اوراور نکاح ختم ہوگیا، اور سائلہ کی بیٹی اپنے شوہر پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی، اب اس کے سابق شوہر کے لیے اس سے رجوع کرنا اور دوبارہ نکاح کرنا حرام ہے، پس مطلقہ عورت اپنی عدت (مکمل تین ماہواریاں اگر حمل نہ ہو، اور ماہواری آتی ہو، اور حمل کی صورت میں بچہ کی پیدائش تک) گزار کر کسی اور سے نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:
"وفى الظهيرية : ومتى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق، وإن عنى بالثانى الأول لم يصدق في القضاء، كقوله "يا مطلقة أنت طالق" ولو ذكر الثانى بحرف التفسير وهو حرف الفاء لا يقع أخرى إلا بالنية كقوله "طلقت فأنت طالق".
(كتاب الطلاق، فصل تكرار الطلاق وإيقاع العدد، ج:4، ص:427، ط:مكتبة زكريا، بديوبند، الهند)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة."
(کتاب الطلاق، فصل في شرائط رجوع المبتوتة لزوجها، ج:3، ص:187، ط: دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100467
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن