بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1447ھ 05 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دو احادیثِ مبارکہ کی تحقیق


سوال

آیا درج ذیل عبارت کی کوئی حدیث ہے یا نہیں اگر ہےتو حوالہ دیں:

"مومن ہرعادت اپنا سکتاہےمگر جھوٹا اورخیانت کرنے والا نہیں ہوسکتا"۔

اسی طرح دوسری حدیث کےمتعلق بھی حوالہ چاہیے:

"مومن ایک سوراخ سے دومرتبہ نہیں ڈساجاسکتا"عربی مع ترجمہ اوروضاحت  مطلوب ہے؟

جواب

پہلی روایت مسند احمدبن حنبل میں موجود ہے ، جو کہ درج ذیل ہے :

"حدثنا وكيع، قال: سمعت الأعمش، قال: حدثت عن أبي أمامة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ‌يطبع ‌المؤمن ‌على ‌الخلال ‌كلها ‌إلا ‌الخيانة ‌والكذب. "

(تتمة مسند الأنصار، حديث أبي أمامة الباهلي الصدي بن عجلان بن عمرو، ج:36، ص: 504، ط:مؤسسة الرسالة )

"ترجمہ :حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"مؤمن تمام عادات (یا خصلتوں) پر پیدا ہو سکتا ہے، سوائے خیانت اور جھوٹ کے۔"

مظاہر حق میں اس حدیث کی تشریح میں ہے:

"اس ارشاد گرامی کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ کامل مومن میں یہ  دو خصلتیں نہیں ہو سکتیں،  بلکہ اس کے اجزائے ترکیبی میں صدق وامانت  کے اوصاف ہوتے ہیں جو تصدیق و  ایمان کا تقاضا ہیں۔

یا اس ارشاد گرامی کی مراد مومن کی ذات میں ان   دونوں خصلتوں کی نفی کرنا ہے یعنی یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ مومن، جو ایمان کے بارِ امانت کا حامل ہے ان دو خصلتوں میں مبتلا نہیں ہوسکتا۔

ا ور زیادہ واضح بات یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ارشاد کے ذریعے دراصل ان دو خصلتوں کو احتیار کرنے سے منع فرمایا کہ کسی مسلمان کو یہ نہ چاہیے کہ ان دو یعنی خیانت اور جھوٹ کو اپنے اندر راہ پانے دے، کیونکہ یہ دونوں برائیاں درحقیقت ایمان اور اسلام کی ضد ہیں۔"

(كتاب الآداب،    باب حفظ اللسان،  ج:4،  ص:436،  ط:دارالاشاعت)

دوسری روایت صحیح بخاری میں موجود ہے ، جوکہ درج ذیل ہے :

"حدثنا قتيبة: حدثنا الليث، عن عقيل، عن الزهري، عن ابن المسيب، عن أبي هريرة رضي الله عنه،عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: (لا يلدغ المؤمن من جحر واحد مرتين)."

 (كتاب الأدب،  باب: لا يلدغ المؤمن من جحر مرتين، ج: 5، ص: 2271، ط:دار ابن كثير)

"ترجمہ :حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"مؤمن ایک ہی سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا"۔

مظاہر حق میں اس حدیث کی تشریح میں ہے:

"اس حدیث کا مقصد اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ مومن دانا جو حق و انصاف کا علمبردار اور دین کا حامی و محافظ ہوتا ہے، اس کی شان یہ ہے کہ وہ کسی عہد شکن اور سرکش سے جو دین کا دشمن ہے درگزر نہ کرے، خدا کی راہ میں اور خدا کی خاطر اس کو اپنے غضب و انتقام کا نشان بنانے سے نہ چوکے، بار بار حلم و  بردباری اور چشم پوشی کا رویہ اختیار نہ کرے اور اس کے دھوکہ و فریب میں نہ آئے۔ واضح رہے کہ کسی دنیاوی معاملہ میں فریب کھا جانا زیادہ اہمیت نہیں رکھتا ،مگر دین کے معاملہ میں نہیں  کھانا چاہیے،  حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مذکورہ ارشاد گرامی میں جس حکیمانہ اصول کی طرف اشارہ کیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک عظیم الشان تعلیم ہے جس کی بنیاد دین کی رعایت و حمیت اور دشمنان دین کے شر و فساد کی بیخ کنی پر ہے۔"

(كتاب الآداب،   باب الحذر والتأني في الأمور، ج:4، ص:551، ط:دارالاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701100082

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں