بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دو فرض نمازوں کو ایک وقت پر پڑھنا


سوال

دو فرض  نمازوں کو ایک وقت میں پڑھنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے اللہ تعالی کی جانب سے پنج وقتہ نماز وں کی ادائیگی  تمام مسلمانوں پر مقرر اوقات پر فرض ہے،اس لیے   دو فرض نمازوں کو ایک وقت میں  عذر کے سبب یا بلا عذر  جمع  کرنا درست نہیں ، چاہے  سفر ہو یا  حضر ، اور  تندرست ہو یا  بیمار، کیوں کہ یہ حرام ہے ،نیز  ہر نماز کو اس کے اپنے اپنے وقت کے اندر پڑھنا فرض ہے، اس میں تاخیر کرنا گناہ ہے،  وقت کے اندر نہ پڑھنے کی صورت میں  بعد میں بھی  قضاء پڑھنا لازم ہے۔ تاہم دو فرض نمازوں ایک ساتھ جمع کرکے پڑھنے کی تین صورتیں ہیں،جن کی تفصیل درج  ذیل ہے:

الف:دو فرض نماز ایک وقت میں  جمع کرنے کی پہلی  صورت یہ ہے کہ بعد والی نماز ، پہلے والی نماز کے وقت میں پڑھی جائے ،مثلاً: ظہر کے وقت میں، ظہر کی نماز کے بعد، عصر کی نماز بھی پڑھی جائے، تو اس صورت میں عصر کی نماز فاسد ہو جائے گی، کیوں کہ وقت سے پہلے نماز پڑھنا جائز نہیں۔ ایسی صورت میں عصر کی نماز کو عصر کے وقت دوبارہ پڑھنا لازم ہوگا ۔ 

ب:دو فرض نماز ایک وقت میں  جمع کرنے کی دوسری صورت یہ ہے کہ: پہلی نماز اتنی دیر کر کے پڑھے کہ اس کا وقت جاتا رہے، یعنی  دوسری نماز کے وقت میں پڑھے، مثلاً: عصر کے وقت میں پہلے ظہر کی نماز پڑھے، پھر عصر کی نماز پڑھے ، یا عشاء کے وقت میں، پہلے مغرب کی نماز پڑھے، پھر اس کے بعد عشاء کی نماز پڑھے، اس صورت میں پہلی نماز قضاء کے طور پر ذمہ سے ادا ہو جائے گی، لیکن قضاء کرنے کی وجہ سے کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوگا۔ 

ج:دوفرض نمازوں کو ایک ساتھ  سفر یا بیماری کی وجہ سے ”حقیقتا“ تو نہیں ”صورتا“ جمع کرنے کی اجازت ہے، اور اس کی صورت یہ ہے کہ: پہلے وقت کی -نماز- کو اس کے آخری وقت میں ادا کرے اوردوسرے وقت کی نماز کو اس کے اول وقت میں پڑھے ، مثلا مغرب کی نماز کو شفق غائب ہونے سے پہلے پہلے پڑھے اور عشاء کی نماز کو شفق غائب ہوتے ہی جلدی پڑھے، تو کوئی  حرج نہیں، اس لیے کہ حقیقتا دونوں نمازیں اپنے اپنے وقت پر ادا ہوئی ہیں۔ 

نوٹ:عرفات اور مزدلفہ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں، عرفات میں مسجد نمرہ کے امام کی اقتداء میں ظہر اور عصر ، ظہر کے وقت میں پڑھی جائیں گی ، اور مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں عشاء کے وقت میں ادا کی جائیں گی ، اور مزدلفہ میں دونوں نمازوں کو جمع کرنے کے لئے امام کی شرط نہیں ہے، اور عرفات میں مسجد نمرہ کے امام کی شرط ہے، ورنہ وہ اپنے اپنے خیمے میں اپنےاپنے وقت پر نماز ادا کرنی ہوگی۔ 

حوالہ جات:

قرآن کریم میں ہے:

"﴿اِنَّ الصَّلوٰةَ کَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ کِتَابًا مَّوْقُوْتًا ﴾." (النساء:103)

ترجمہ: ”بے شک نماز مسلمانوں پروقتِ مقررہ کے ساتھ فرض ہے۔“(بیان القرآن)

سنن ترمذی میں ہے:

"عن ابن عباس، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: من ‌جمع ‌بين ‌الصلاتين من غير عذر فقد أتى بابا من أبواب الكبائر."

(ابواب الصلوۃ، باب ماجاء في الجمع بین الصلاتین في الحضر،ج:1،ص:356،رقم الحديث:188،ط:مطبعة مصطفى البابي الحلبي مصر)

ترجمہ: ”جس آدمی نے بغیر عذر کے دو نمازوں کو (ایک ہی وقت میں )جمع کیا(پڑھا) وہ کبیرہ گناہوں کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر پہنچ چکا۔“

موطا امام مالك میں ہے:

"قال محمد: بلغنا،عن عمر بن الخطاب،أنه «كتب في الآفاق، ينهاهم أن يجمعوا بين الصلاتين، ويخبرهم أن ‌الجمع ‌بين ‌الصلاتين في وقت واحد كبيرة من الكبائر»،أخبرنا بذلك الثقات."

(‌‌ابواب الصلوۃ،باب الجمع بين الصلاتين في السفر والمطر،ص:82،رقم الحديث:204،ط:المكتبة العلمية)

ترجمہ :”حضرت عمررضی اللہ عنہ نے اپنے گورنروں اور امراء کو یہ خط لکھاتھا کہ: امراء لوگوں کو جمع بین الصلاتین سے روکیں،اور ان کو بتا دیں کہ جمع بین الصلاتین ایک ہی وقت میں کبیرہ گناہ ہے،اس روایت کو ثقہ روایوں نے ہم سے بیان کیاہے۔“

صحیح مسلم میں ہے:

"كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا ارتحل قبل أن تزيل الشمس أخر الظهر إلى وقت العصر ثم نزل فجمع."

( باب جواز الجمع بين الصلاتين في السفر،1/ 489، ط : دار إحياء التراث العربي،بيروت)

ترجمہ:" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج کے زائل ہونے سے قبل سفر فرماتے تو ظہر کو مؤخرفرماتے عصر تک، پھر (سواری سے) اترتے،اور دونوں نمازوں کو جمع فرماتے۔"

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولا يجمع بين الصلاتين في وقت واحد لا في السفر ولا في الحضر بعذر ما عدا عرفة والمزدلفة. كذا في المحيط."

(كتاب الصلاة،الباب الأول في مواقيت الصلاة وما يتصل بها،الفصل الثاني في بيان فضيلة الأوقات،52/1، ط:رشیدية)

المبسوط السرخسی میں ہے:

"قال (ولا يجمع بين صلاتين في وقت إحداهما في حضر ولا في سفر) ما خلا عرفة ومزدلفة فإن الحاج يجمع بين الظهر والعصر بعرفات فيؤديهما في وقت الظهر وبين المغرب والعشاء بمزدلفة فيؤديها في وقت العشاء، عليه اتفق رواة نسك رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه فعله وفيما سوى هذين الموضعين لا يجمع بينهما وقتا عندنا."

(كتاب الصلاة،باب مواقيت الصلاة149/1،ط:دار المعرفة - بيروت، لبنان)

الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیہ میں ہے: 

"وذهب الحنفية إلى أنه لا يجوز ذلك إلا في عرفة ومزدلفة، في اليوم التاسع من ذي الحجة، فيجمع الإمام بين الظهر والعصر جمع تقديم، بأن يصلي الظهر والعصر في وقت الظهر بعرفات، ويجمع بين المغرب والعشاء جمع تأخير بمزدلفة فيصلي المغرب والعشاء في وقت العشاء.واشترط أبو حنيفة لجواز هذا الجمع: أن يكون محرما بحج لا عمرة، وأن تكون هذه الصلاة بجماعة، وأن يكون الإمام في جمع عرفة هو السلطان أو نائبه."

(‌‌أوقات الصلاة،‌‌‌‌حكم الصلاة في غير وقتها،تأخير الصلاة بلا عذر،188/7،ط:دارالسلاسل - الكويت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704102189

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں