
ہمارے والدین کا انتقال ہوگیا ہے، ہمارے دادا، دادی، اور نانا،نانی کا انتقال والدین سے پہلے ہو چکا ہے، والدین کے ترکہ میں ایک دکان اور ایک مکان ہے، ورثاء میں دو بیٹے، اور چار بیٹیاں ہیں،شرعی اعتبار سے ترکہ کی تقسیم کیسے ہوگی ؟
صورت ِ مسئولہ میں ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحو مین کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد ، اگر مرحومین پر کوئی قرضہ ہے تو کل مال سے اُس کو ادا کرنے کے بعد ، اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہے اس کو تہائی مال سے ادا کرنے کے بعد، مابقیہ کل ترکہ کو 8 حصوں میں تقسیم کر کے 2حصے ہر ایک بیٹے کو،اور 1،1حصہ ہر ایک بیٹی کو ملے گا۔
صورت تقسیم یہ ہے :8
| بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 2 | 2 | 1 | 1 | 1 | 1 |
یعنی فیصد کے اعتبار سے مرحوم والدین کے ہر ایک بیٹے کو 25 فیصد، اور ہر ایک بیٹی کو 12.5 فیصد حصہ ملے گا۔فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101115
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن