بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دو بیٹوں میں ترکہ کی تقسیم


سوال

میرے والد صاحب کا 2024 میں انتقال ہوا ، والد صاحب کے ورثاء میں والدہ اور ہم دو بھائی ہیں ،پھر اس کے ایک سال بعد والدہ کا بھی انتقال ہو گیا، والد صاحب کے ترکہ میں ایک گھر  ہے، جس میں سے آدھے پر درزی کی دکان ہے،اور بقیہ آدھے گھر میں رہائش ہے ،اس کے علاوہ والدہ کے ترکے میں کچھ سونا  بھی ہے، اور گھر کا سامان ہے، اس کی شرعی تقسیم کیسے ہوگی؟

نوٹ : والد کے والدین پہلے ہی  انتقال کرچکے ہیں۔

جواب

صورت ِ مسئولہ میں ترکہ کی تقسیم  کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ  سب سے پہلے مرحو مین کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد ، اگر  مرحومین پر کوئی  قرضہ ہو، تو ترکہ  سےاُس کو ادا کرنے کے بعد ، اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو، تو اس کو  ایک تہائی ترکہ سے ادا کرنے کے بعد، مابقیہ کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ   کو  2 حصوں میں تقسیم کر کے ایک ایک حصہ ہر ایک بیٹے  کو ملے گا۔

صورت تقسیم یہ ہے :

میت (مرحوم  والدین ):2

بیٹابیٹا
11

یعنی فیصد کے اعتبار سے مرحوم والدین کے (مذکورہ ترکہ میں سے ) ہر ایک بیٹے کو 50 فیصد  حصہ ملے گا۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100932

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں