
اگر دو پڑوسی مل کر ایک جانور خریدیں جس میں سے ہر ایک کے تین تین حصے ہوں، پھر تقسیم اس طرح کری کہ جانور کو درمیان سے کاٹ لیں اور اس کی دو ٹانگیں گوشت کے ایک حصے کے ساتھ رکھیں اور دوٹانگیں دوسرے حصے کے ساتھ ، کیا اس طرح تقسیم کرنا صحیح ہے یا چھ حصوں کو الگ الگ تقسیم کرنا ضروری ہے؟
صورتِ مسئولہ میں جب دو بندے قربانی میں اس طرح حصہ ڈالیں کہ ایک کے تین حصے اور دوسرے کے تین حصےتو گوشت کو چھ حصےکرنا ضروری نہیں ، بلکہ برابر دو حصے کر کے بھی تقسیم کرسکتے ہیں ،جب قربانی کے جانور کو دو حصوں میں تقسیم کرنا ہو، تو لازم ہے کہ دونوں حصے وزن کے اعتبار سے برابر ہوں، اندازے سے تقسیم کرنا جائز نہیں، اگرچہ شرکاء اس کمی بیشی پر راضی ہی کیوں نہ ہوں، البتہ اگر دیگر اعضا، جیسے کہ سری، پائے وغیرہ کو بھی گوشت کے ساتھ شامل کر کے تقسیم کیا جائے، تو پھر وزن کے بغیر، محض اندازے سے تقسیم کرنا بھی جائز ہوگا۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"ويقسم اللحم وزناً لا جزافاً إلا إذا ضم معه الأكارع أو الجلد) صرفاً للجنس لخلاف جنسه.
(قوله: ويقسم اللحم) انظر هل هذه القسمة متعينة أو لا، حتى لو اشترى لنفسه ولزوجته وأولاده الكبار بدنة ولم يقسموها تجزيهم أو لا، والظاهر أنها لاتشترط؛ لأن المقصود منها الإراقة وقد حصلت."
(كتاب الأضحية ، جلد : 6 ، صفحه : 317 ، طبع : دار الفكر)
المحيط البرهاني في الفقه النعماني میں ہے:
"سبعة ضحوا بقرة وأرادوا أن يقسموا اللحم بينهم؛ إن اقتسموها وزناً يجوز ... وإن اقتسموها جزافاً إن جعلوا مع اللحم شيئاً من السقط نحو الرأس، والأكارع يجوز، وإن لم يجعلوا لايجوز؛ لأن البيع على هذا الوجه لايجوز."
(كتاب الأضحية ، الفصل الثامن ، ج : 6 ، ص : 100 ، دار الكتب العلمية)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144612100086
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن