بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دو بیٹوں میں وراثت کی تقسیم


سوال

میری والدہ صاحبہ کا انتقال گزشتہ دنوں میں ہوا، مرحومہ نے کچھ زیورات چھوڑے، جن میں ہم شرعی طریقے سے تقسیم کرنا چاہتے ہیں، لہٰذا راہ نمائی فرمائیں۔
مرحوم کے ورثاء میں صرف دو بیٹے ہیں، جب کہ شوہر، ایک بیٹی، دو بیٹوں اور والدین کا پہلے انتقال ہوا ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحومہ والدہ کی میراث تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحومہ کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کا خرچہ کا خرچہ نکالنے کے بعد، مرحومہ کے ذمہ اگر کوئی قرض ہو، اسے ادا کرنے کے بعد، اور اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو، اسے باقی ترکہ کے ایک تہائی میں نافذ کرنے کے بعد باقی کل ترکۂ منقولہ و غیرِ منقولہ کو 2 حصوں میں تقسیم کر کے ہر ایک بیٹے کو ایک، ایک حصہ ملے گا۔تقسیم کی صورت درج ذیل ہے:

مرحومہ والدہ:2

بیٹابیٹا
11

فی صد کے اعتبار سے ہر ایک بیٹے کو 50.00 فی صد ملے گا۔

الاختیار لتعلیل المختار میں ہے:

"يبدأ من تركة الميت بتجهيزه ودفنه على قدرها ثم تقضى ديونه، ثم تنفذ وصاياه من ثلث ماله، ثم يقسم الباقي بين ورثته."

(کتاب الفرائض،صفحة:85،مطبعة الحلبی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144606100477

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں