بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دو بیوہ، چھ بیٹے، اور آٹھ بیٹیوں میں ترکہ کی تقسیم


سوال

1:ہمارے سسر کا انتقال ہوا  ورثاء میں دو بیوہ ،چھ بیٹے ، آٹھ بیٹیاں ہیں اور سسر کے والدین پہلے سے انتقال کرچکے ہیں ترکہ میں کئی چیزیں چھوڑی ہیں تو  سسر کا کل ترکہ ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگا ؟
2:سسر  اکیس گریڈ کے آفیسر تھے ان کی ماہانہ تنخواہ بھی آتی ہے، تو اب اس کا شرعی حقدار کون ہوگا ؟جبکہ مرحوم نے وصیت کی تھی کہ پنشن کے بعد جو آدھی تنخواہ ملے   وہ مذکورہ دو بیوواؤں ہ کی ہوگی کیا یہ وصیت درست ہے ؟
3: مرحوم کی  ملکیت میں کئی جائیدادیں ہیں  جن کا کرایہ آتا ہے تو تقسیم تک مذکورہ کرایہ ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگا ؟

جواب

صورت مسئولہ میں مرحوم  کےترکہ کی تقسیم کا شرعی  طریقہ کار یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیزوتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد ، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو  اسے کل ترکہ سے ادا کرنے کے بعد ، اوراگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تواسے باقی ترکہ  کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعدباقی ماندہکل    ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کے 160 حصے کرکے 10 حصے ہر بیوہ کو ،14 حصےہر بیٹے   کو ،اور 7 حصے ہر بیٹی کو ملیں گے ۔
میت:160/8

بیوہبیوہبیٹابیٹابیٹابیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹیبیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
17
101014141414141477777777

اور فیصد کے اعتبار سے 6.25فیصد ہر بیوہ کو ،8.75 فیصد ہر بیٹے کو ،4.375 فیصد ہر بیٹی کو ملے گا ۔
2،مرحوم کے فوت ہونے کے بعد متعلقہ حکومتی ادارہ  کی طرف سےآدھی تنخواہ مل رہی ہے تو یہ تنخواہ مرحومہ کا  ترکہ نہیں ہے بلکہ ادارہ اس تنخواہ کو جس کے نام جاری  کرکےد ے وہی اس کا حقدار ہوگا  ۔
3:جن جائیدادوں سےکرایہ آتا ہے  تو کرایہ کی تمام رقم   مذکورہ بالا  فیصد کے حساب سے  تمام ورثاء میں تقسیم کی جائیگی  ۔
الفقه الإسلامي وأدلته  میں :

"لأن الإرث إنما يجري في المتروك ‌من ‌ملك ‌أو ‌حق ‌للمورث، لقوله عليه السلام: «من ترك مالاً أو حقاً فهو لورثته،"

 (ج:7،/ص: 5410،ط:دار الفكر)

امداد الفتاوی میں ہے:

"چوں کہ میراث اموالِ مملوکہ میں جاری ہوتی ہے اور یہ وظیفہ محض تبرع واحسان سرکار کا ہے  بدونِ قبضہ مملوک نہیں ہوتا ،لہذا آئندہ جو وظیفہ ملے گا اس میں  میراث جاری نہیں ہوگی ،سرکار کو اختیار ہے جس طرح چاہے  تقسیم کردے۔"

(ج:4،ص:342،ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704100237

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں