
ہم دوبھائی اورایک بہن ہیں ہمارےوالدصاحب کاانتقال ہوگیاہے،ہماری والدہ اوردادا،دادی کاپہلےہی انتقال ہوگیاتھا،ہم تینوں بہن بھائی والدصاحب کےساتھ رہتےتھے،مگرمیرےوالدصاحب مجھ سےمحبت کم کرتےتھےاوردوسرےبہن بھائیوں سےزیادہ محبت کرتےتھے،وقت کےساتھ حالات خراب ہوتےگئےتومیں نےوالدصاحب کےذہنی سکون کومدنظررکھتےہوئےالگ رہائش اختیارکرلی ،پھرجب والدکاانتقال ہواتومیرےچھوٹےبھائی اوربہن جوکہ مطلقہ ہیں نےوالدصاحب کی سب جائیدادپرقبضہ جمالیااورمیراشرعی حصہ دینےسےانکارکردیا،ان بہن بھائیوں نےہی والدکومیرےخلاف غلط فہمیوں میں مبتلاکیا،والدکی عمراورصحت کابھی خیال نہیں رکھا،مجھےہرطرح کی اذیت اورتکلیف میں مبتلارکھا،تقریباًساڑھےتین سال سےبلاوجہ میرےساتھ مکمل طورپرقطع تعلقی کی ہوئی ہے۔
میرےوالدصاحب کی جائیدادمیں ایک مکان اوردوپلاٹ ہیں ۔
1۔اب سوال یہ ہےکہ میرےبھائی اوربہن کااس جائیدادپرقبضہ کرلینااورمجھےمیراحصہ دینےسےانکارکرنےکاکیاحکم ہے؟اوروالدکےترکہ کی تقسیم کیسےہوگی؟
2۔نیزقطع تعلقی کاکیاحکم ہے؟
1۔صورت مسئولہ میں سائل کے بھائی اوربہن کاوالدکےترکہ پر قبضہ جما لینااورسائل کوحصہ دینےسےانکارکرنا شرعاً ناجائز ہے،ان پر لازم ہے کہ سائل کاشرعی حصہ سائل کےحوالےکردیں ، وگرنہ آخرت میں دیناپڑے گا،جو کہ بڑے گھاٹے کاسودا ہوگا،رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: ”جس شخص نےناحق ایک بالشت زمین ہتھیالی روزِ قیامت اتنی ہی زمین طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈال دی جائے گی“۔
نیزوالدکےترکہ کی تقسیم کاطریقہ یہ ہےکہ سب سےپہلےمرحوم کےحقوقِ متقدمہ (تجہیزوتکفین ) کا خرچہ نکالنے کےبعد، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو ،تو اسے ادا کرنے کےبعداوراگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو، تو اسےباقی ترکہ کے ایک تہائی حصہ سے نافذ کرنے کےبعد، باقی کل ترکہ (منقولہ وغیرمنقولہ ) کو 5حصوں میں تقسیم کرکے 2،2حصے مرحوم کےہرایک بیٹےکواور1حصہ مرحوم کی بیٹی کوملےگا۔
تقسیم کی صورت یہ ہے:
| بیٹا | بیٹا | بیٹی |
| 2 | 2 | 1 |
یعنی مرحوم کےترکہ کا40فیصدمرحوم کےہرایک بیٹےکواور20فیصدمرحوم کی اکلوتی بیٹی کوملےگا۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين."
(باب الغصب والعاریة، ج: 2، ص: 887، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)
فتاوی شامی میں ہے:
"لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."
(كتاب الحدود، ج: 4، ص: 61، ط: سعيد)
2۔واضح ہو کہ قطع تعلقی کرنے والے کے لیے احادیث میں وعیدیں وارد ہوئی ہیں، چنانچہ حدیث میں ہے :
" حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہ ہوگا۔
لہذا سائل کے بھائی اور بہن کا تین سال سے اس سے قطع تعلق کیے رکھنا شرعاً ناجائز ہے، انہیں چاہیے کہ فوراً قطع تعلق ختم کرکے صلہ رحمی قائم کریں، نیز اگر باہمی طور پر کوئی شکوہ یا شکایت ہو تو معافی تلافی کے ذریعے معاملہ صاف کرلیں، تاکہ دلوں میں کوئی رنجش باقی نہ رہے۔
صحیح بخاری میں ہے:
" إن جبير بن مطعم، أخبره: أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: لا يدخل الجنة قاطع."
(کتاب الآداب، باب إثم القاطع، ج: 5، ص: 2231، ط: دار ابن كثيرد،مشق)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708101331
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن