بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 صفر 1448ھ 09 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر کوئی اپنی زندگی میں جائیداد کو تقسیم کرنا چاہے تو اس کا حکم


سوال

میری بہن کے شوہر کا انتقال تقریباً ایک سال قبل ہو چکا ہے، ایک گھر میری بہن کے نام ہے، جسے وہ فروخت کر کے حاصل ہونے والی رقم اپنے بچوں میں تقسیم کرنا چاہتی ہیں۔

میری بہن کے 2 بیٹے اور 3 بیٹیاں ہیں، اور  والدین کا انتقال ہو چکا ہے۔ تینوں بیٹیوں کی شادیاں ہو چکی ہیں، جب کہ ایک بیٹے کی شادی ہو چکی ہے اور ایک بیٹے کی شادی ابھی نہیں ہوئی۔

میری بہن چاہتی ہیں کہ گھر کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم اپنے تمام بچوں (بیٹوں اور بیٹیوں) میں برابر برابر تقسیم کر دیں۔

تو اس تقسیم کا شرعی طریقہ کیا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کی جو بہن ہیں، ان کی زندگی میں ان کی تمام جائیداد ان کی اپنی ملکیت ہے، وہ جس طرح چاہیں اپنا مال خرچ کر سکتی ہیں۔ ان کے انتقال سے پہلے ان کی جائیداد میں  اولاد میں سے کسی کا کوئی حق نہیں ہے، البتہ اگر سائل کی بہن اپنی اولاد کو جائیداد دینا چاہیں تو اسے "ہبہ" (عطیہ/ہدیہ) کہا جائے گا، میراث کی تقسیم نہیں۔

لہٰذا اگر سائل کی بہن اپنی زندگی میں جائیداد اپنی اولاد کو دینا چاہیں تو اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے اپنی جائیداد میں سے بقدر ضرورت مال اور رقم اپنے لیے رکھ لیں تاکہ وہ اپنی بقیہ زندگی سکون سے بسر کر سکیں، اس کے بعد باقی ماندہ مال اپنی تمام اولاد میں برابر برابر تقسیم کر دیں۔ اس میں اس بات کا خیال رکھا جائے کہ کسی کو بلا ضرورت کم یا زیادہ نہ دیا جائے، بلکہ ہر ایک کو برابر حصہ دیا جائے۔

البتہ اگر اولاد میں کوئی خدمت گزار یا تنگ دست یادیندار ہو تو اسے دیگر کے مقابل میں کچھ زیادہ دینا بھی جائز ہے۔

دوم یہ کہ زندگی میں تقسیم کے لئے ضروری ہے کہ ہر ایک کا حصہ الگ کرکے ہر ایک کو اپنے  دیے حصے پر عملا قبضہ و تصرف دےدے محض زبانی یا تحریری تقسیم پر اکتفاء نہ کرے۔ 

مشکاۃ المصابیح  میں ہے:

"وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله فقال: إني نحلت ابني هذا غلاما فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه» . وفي رواية: أنه قال: «أيسرك أن يكونوا إليك في البر سواء؟» قال: بلى قال: «فلا إذاً» . وفي رواية:،،،إني أعطيت ابني من عمرة بنت رواحة عطية فأمرتني أن أشهدك يا رسول الله قال: «أعطيت سائر ولدك مثل هذا؟» قال: لا قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم» .قال: فرجع فرد عطيته. وفي رواية: أنه قال: «لا أشهد على جور."

(  باب العطایا،ج:1،ص:267،ط:رحمانیہ)

ترجمہ:"حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میرے والد نے مجھے جناب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے کر آئے اور کہنے لگے میں نے اس بیٹے کو ایک غلام بخشاہے توآپ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے اپنے تمام بیٹوں کو اسی بیٹے جیسا غلام دیا ہے؟انہوں نے کہا نہیں  تو اس پر آپ ﷺ نے فرمایا  کہ اس غلام کو واپس لے اور ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم پسند کرتے ہو کہ تمہارے سب بیٹے  تمہارے ساتھ نیکی میں برابر ہوں( یعنی تیرے ساتھ اچھا سلوک کرنے والے ہو ں اور تیری فرمانبرداری اور تعظیم کرنے والے ہوں) تو انہوں نے کہا جی ہاں :پس آپ ﷺ نے فرمایا کہ مناسب نہیں  کہ تم اپنے  اس اکیلے لڑکے کو غلام دو۔اورایک روایت میں ہے(کہ میرے والد)کہنے لگے کہ میں نے اس بیٹے کو جو عمرہ بن رواحہ سے ہے ایک چیز دی ہے تو عمرہ کہنے لگی کہ اس پر آپﷺ کو گواہ بناؤں  ،تو آپ ﷺ نے فرمایا کیاتم نے اپنے تمام بیٹوں کو اس طرح چیز دی ہے ؟اس نے کہا نہیں تو اس پر آپ ﷺ نے فرمایا :اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد میں انصاف کرو۔نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میرے والد واپس آئے اور دی ہوئی چیز واپس پھیرلی ، اور ایک  روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔یہ بخاری ومسلم  کی روایت ہے ۔"

 (مظاہر حق،ص:,16215،ج:3،ط:مکتبۃالعلم)

فقط و اللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144802100448

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں