بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دو بیٹے اورچار بیٹیوں کے درمیان میراث کی تقسیم


سوال

ہمارے والد صاحب کا 2008 میں انتقال ہوا تھا، اور پھر 2026 میں والدہ کا انتقال ہوا۔ دونوں کے والدین کا پہلے ہی انتقال ہو چکا ہے۔ دونوں کے زندہ ورثاء میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ ان ورثاء کے درمیان ترکہ کی شرعی تقسیم کیسے ہوگی؟

جواب

  مرحوم والدین کی میراث تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کےحقوقِ متقدمہ یعنی تجہیزو تکفین کے اخراجات ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے کل مال سے ادا کرنے کے  بعد،اگر مرحوم نے  کوئی جائز وصیت کی ہو تو  اسے باقی  مال کے تہائی  حصہ میں سے   نا فذ کرنے کے بعد،  باقی تمام ترکہ    منقولہ و غیر  منقولہ کو8حصوں میں تقسیم کر کے،2،2حصے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو ،اور ایک ، ایک حصہ مرحوم کی ہر  بیٹی کو ملے گا۔

صورتِ تقسیم یہ ہو گی:

میت:( والد/والدہ)،مسئلہ :8

بیٹابیٹاٍبیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
221111

یعنی 100  فیصد میں  سے 25 فیصد کر کے  مرحوم والدین کے ہر ایک بیٹے کو ،12.50فیصد کر کے مرحوم والدین کی ہر   ایک بیٹی کو ملےگا ۔

ارشادِربّانی ہے:

{لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ}(سورۃ النسآء، الآیة:11)

”لڑکےکاحصہ دولڑکیوں کےحصہ کےبقدرہے“(معارف القرآن)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712100406

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں