
ہمارے والد صاحب کا 2008 میں انتقال ہوا تھا، اور پھر 2026 میں والدہ کا انتقال ہوا۔ دونوں کے والدین کا پہلے ہی انتقال ہو چکا ہے۔ دونوں کے زندہ ورثاء میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ ان ورثاء کے درمیان ترکہ کی شرعی تقسیم کیسے ہوگی؟
مرحوم والدین کی میراث تقسیم کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کےحقوقِ متقدمہ یعنی تجہیزو تکفین کے اخراجات ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے کل مال سے ادا کرنے کے بعد،اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے باقی مال کے تہائی حصہ میں سے نا فذ کرنے کے بعد، باقی تمام ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو8حصوں میں تقسیم کر کے،2،2حصے مرحوم کے ہر ایک بیٹے کو ،اور ایک ، ایک حصہ مرحوم کی ہر بیٹی کو ملے گا۔
صورتِ تقسیم یہ ہو گی:
میت:( والد/والدہ)،مسئلہ :8
| بیٹا | بیٹاٍ | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 2 | 2 | 1 | 1 | 1 | 1 |
یعنی 100 فیصد میں سے 25 فیصد کر کے مرحوم والدین کے ہر ایک بیٹے کو ،12.50فیصد کر کے مرحوم والدین کی ہر ایک بیٹی کو ملےگا ۔
ارشادِربّانی ہے:
{لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ}(سورۃ النسآء، الآیة:11)
”لڑکےکاحصہ دولڑکیوں کےحصہ کےبقدرہے“(معارف القرآن)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712100406
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن