بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دو بطن مناسخہ


سوال

ہماری والدہ کا انتقال اکتوبر 2010 میں ہوا،والدہ نے ایک پلاٹ ترکہ میں چھوڑا، جو کچھ قانونی اور دفتری معاملات کی وجہ سے تقسیم نہ ہو سکا،ہم  تین بھائی اور چار بہنیں ہیں  ( شوہراور والدین پہلے انتقال کر چکے ہیں) ہماری بہن جنوری 2025 کو انتقال کر گئیں، صرف شوہر ہے، اور یہی تین بہنیں اور تین بھائی ہیں، اولاد کوئی نہیں، ہمیں اس کی شرعی تقسیم بتا دیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مرحومہ والدہ کے حقوقِ متقدمہ یعنی کفن دفن کا خرچ (اگر کسی نے بطورِ قرض کیا ہو تو وہ ) نکالنے کے بعد ، اگر مرحومہ کے ذمہ کوئی قرض ہو تو بقیہ تمام ترکہ سے وہ ادا کرنے کے بعد، اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ایک تہائی ترکہ میں اسے نافذ کرنے کے بعد، باقی کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 180 حصوں میں تقسیم کر کے ، 38 حصے کر کے ہر ایک بیٹے کو، 19   حصے کر کے ہر ایک بیٹی کو، اور 9 حصے مرحومہ بیٹی کے شوہرکو ملیں گے۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:

میت :مرحومہ والد ہ: 10 / 180

بیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
2221111
363636فوت شد181818

میت ،مرحومہ بہن:2 / 18  مف 1

شوہربھائی بھائیبھائیبہنبہنبہن
11
9222111

یعنی فیصد کے حساب سے 100 روپے میں سے 21.11 روپے کر کے ہر ایک بیٹے کو، 10.55 روپے کر کے ہر ایک بیٹی کو، اور 5 روپے مرحومہ بیٹی کے شوہر کو ملیں گے۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100743

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں