
ہماری والدہ کا انتقال اکتوبر 2010 میں ہوا،والدہ نے ایک پلاٹ ترکہ میں چھوڑا، جو کچھ قانونی اور دفتری معاملات کی وجہ سے تقسیم نہ ہو سکا،ہم تین بھائی اور چار بہنیں ہیں ( شوہراور والدین پہلے انتقال کر چکے ہیں) ہماری بہن جنوری 2025 کو انتقال کر گئیں، صرف شوہر ہے، اور یہی تین بہنیں اور تین بھائی ہیں، اولاد کوئی نہیں، ہمیں اس کی شرعی تقسیم بتا دیں۔
صورتِ مسئولہ میں مرحومہ والدہ کے حقوقِ متقدمہ یعنی کفن دفن کا خرچ (اگر کسی نے بطورِ قرض کیا ہو تو وہ ) نکالنے کے بعد ، اگر مرحومہ کے ذمہ کوئی قرض ہو تو بقیہ تمام ترکہ سے وہ ادا کرنے کے بعد، اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ایک تہائی ترکہ میں اسے نافذ کرنے کے بعد، باقی کل ترکہ منقولہ و غیر منقولہ کو 180 حصوں میں تقسیم کر کے ، 38 حصے کر کے ہر ایک بیٹے کو، 19 حصے کر کے ہر ایک بیٹی کو، اور 9 حصے مرحومہ بیٹی کے شوہرکو ملیں گے۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:
میت :مرحومہ والد ہ: 10 / 180
| بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 2 | 2 | 2 | 1 | 1 | 1 | 1 |
| 36 | 36 | 36 | فوت شد | 18 | 18 | 18 |
میت ،مرحومہ بہن:2 / 18 مف 1
| شوہر | بھائی | بھائی | بھائی | بہن | بہن | بہن |
| 1 | 1 | |||||
| 9 | 2 | 2 | 2 | 1 | 1 | 1 |
یعنی فیصد کے حساب سے 100 روپے میں سے 21.11 روپے کر کے ہر ایک بیٹے کو، 10.55 روپے کر کے ہر ایک بیٹی کو، اور 5 روپے مرحومہ بیٹی کے شوہر کو ملیں گے۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100743
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن