بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دو بستیوں کو ایک شمار کر کے جمعہ ادا کرنے کا حکم


سوال

(1) نماز جمعہ کی شرائط موجودہ دور کے اندر کیا ہیں۔

(2) دو بستیوں کو ایک شمار کیا جائے اس کی کیا شرائط ہیں۔

(3)، ہمارا گاؤں ہے اس میں تقریباً ۲۵ کے قریب گھر ہیں اس میں ایک دو دکا نیں بھی ہیں اور اس کے ساتھ دوسرا گاؤں ہے اس میں گھر بھی بہت ہیں پہلے بازار تھا اس میں لیکن زیادہ تر  دکانیں  پھر ختم ہوگئ ہیں ،  لیکن اب بھی وہاں پر دکانیں ہیں وہاں ضروریات کی چیزیں کھانے پینے کی ا شیاء   دستیاب ہوتی ہیں، ہسپتال وغیرہ نہیں ہے البتہ دکان سے علاج کی چیزیں مل جاتی ہیں ،  اب معلوم کرنا تھا کہ یہ دونوں گاؤں کے نام الگ الگ ہیں آخری گھروں کا فاصلہ دونوں گاؤں میں 1کلو میٹر   سے بھی کم ہے ، ایک ریت کا ٹیلہ ہے اس کی ایک طرف پہلے گاؤں کی بستیاں ہیں اور دوسری طرف دوسرے گاؤں کی بستیاں ہیں ۔ اسی طرح مال مویشی وغیرہ ایک دوسرے کی زمینوں میں آ تےرہتے  ہیں اور وہ زمینیں جہاں گاؤں ہے۔ وہ ملکیت بھی کسی کی نہیں صرف دونوں گاؤں کے لئے ہے تو کیا ہم دونوں کو ایک شمار کر کے اس میں نماز جمعہ پڑھ سکتے ہیں اس چھوٹی بستی میں جس میں تقریباً ۲۵ کے قریب گھر ہیں ۔ یا ہم ایک شمار نہیں کر سکتے براہ کرم اس کی وضاحت کر کے بتائیں۔

جواب

جمعہ نماز   صحیح ہونے کی پانچ شرائط ہیں :

۱۔ شہر یا قصبہ یا اس کا فنا(مضافات) ہونا۔

۲۔  ظہر کا وقت ہونا۔

۳۔  ظہر  کے وقت میں نمازِ  جمعہ سے پہلے خطبہ ہونا۔

۴۔ جماعت یعنی امام کے علاوہ  کم از   کم تین بالغ مردوں کا خطبے کی ابتدا سے پہلی رکعت کے سجدہ تک موجود رہنا۔

۵۔اذنِ عام (یعنی نماز قائم کرنے والوں کی طرف سے نماز میں آنے والوں کی اجازت) کے ساتھ نمازِ جمعہ کا پڑھنا۔

جمعہ کی  وجوبیت میں سب سے عمدہ شرطوں میں سے شہر  یا شہر کے تابع  آبادی ( جہاں شہر کی اذان سنائی دے)یا بڑا گاؤں  ہونا ضروری ہے،بڑے گاؤں سے مراد ایسا بڑا گاؤں جس کی مجموعی آبادی کم از کم دو ہزار نفوس پر مشتمل ہو، اور اس گاؤں میں ایسا بازار موجود ہو  جس میں روزہ مرہ کی ضروری اشیاء باآسانی مل جاتی ہوں اور   سوال میں مذکور  دو بستیوں کو ایک شمار کرنا درست نہیں کیوں کہ درمیان میں ایک کلومیٹر کا فاصلہ ہے،لہذا  مذکورہ دو بستیوں  میں جمعہ کی شرائط  پوری نہ ہونے کی وجہ سے جمعہ واجب نہیں، اور اس طرح فاصلہ والے دو بستیوں  کو ایک شمار کرنے کی شرعا  گنجائش نہیں ہے۔

النتف فی الفتاوی میں ہے :

"فأما المصر فان فيه خمسة أقاويل

قال بعض الفقهاء المصر هو الذي فيه ثلاثة أشياء السوق القائم والسلطان وجري الاحكام والحدود

وقال بعضهم المصر هو الذي له رساتيق لأن المصر يقال له القصبة والقصبة انما تكون ذات اغصان كذلك المصر يكون ذا رساتيق

وقال بعضهم المصر الذي لا ينسب الى غيره ولا يضاف الى مكان بل يكون له اسم بذاته فحسب وقال بعضهم المصر الذي يوجد فيه جميع الحرف

وقال بعضهم المصر الذي لا يتسع اكبر مساجدها العامة لاهلها وعلى هذا أكثر الفقهاء

وعند أبي عبد الله وأهل الحديث إذا كان في قرية أربعون رجلا تجوز فيها الجمعة.

(کتاب الصلاۃ، باب تعریف المصر، ج: 1، ص: 91، ط:  دار الفرقان / مؤسسة الرسالة - عمان الأردن)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702102091

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں