بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈی این اے ٹیسٹ کی بنیاد پر نسب کا انکار کرنا


سوال

ایک شخص  گھر بچہ پیدا ہوتے وقت  اپنی بیوی کے ساتھ ہوتا ہے،  دورانِ حمل بیوی مختلف اوقات میں اپنے دو الٹراساؤنڈ ٹیسٹ بھی کرواتی ہے۔ بچے کی پیدائش اور دو مختلف اوقات میں کیے گئے الٹراساؤنڈ رپورٹس کے مطابق حمل ٹھہرنے کی جو تاریخ بنتی ہے، اس پورے مہینے میں بیوی کا شوہر گھر پر اپنی بیوی کے ساتھ موجود ہوتا ہے، جس کے شواہد موجود ہیں۔

بچے کی پیدائش کے تین ماہ بعد شوہر اپنی بیوی پر الزام لگاتا ہے کہ بچہ اس کا نہیں ہے اور ڈی این اے ٹیسٹ کرواتا ہے، جس کے مطابق بچے کا ڈی این اے کسی اور شخص سے ملتا ہے۔ بچے کی ماں اور جس شخص کے ساتھ بچے کا ڈی این اے ملتا ہے، قاضی کے سامنے حلفاً انکار کرتے ہیں کہ وہ زنا کے مرتکب نہیں ہوئے۔ نیز ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے لیے جانے والے خون کے نمونے بھی دو الگ الگ مقامات سے کسی ذمہ دار افسر کی غیر موجودگی میں لیے جاتے ہیں، اور نمونہ جات، جو لیے گئے تھے، ان کو بھی تلف کر دیا جاتا ہے۔

شوہر اپنی بیوی کو طلاق بھی دے دیتا ہے۔ عدالت کے سامنے شوہر کوئی ایک بھی چشم دید گواہ پیش نہیں کر سکتا جو یہ گواہی دے کہ اس نے اس کی بیوی کو اس غیر مرد کے ساتھ کہیں بھی، تنہائی یا محفل میں، آپس میں اٹھتے بیٹھتے یا بات چیت کرتے دیکھا ہو۔ بلکہ شوہر از خود عدالت/قاضی کے سامنے اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ اس الزام سے پہلے اس کو اپنی بیوی پر کوئی شک و شبہ نہیں تھا، نہ ہی کوئی ثبوت موجود تھا۔ جبکہ اس شوہر کے اپنی اسی بیوی کے بطن سے اس نومولود بچے کے علاوہ چار بچے اور بھی ہوئے ہیں۔

ایسی صورتِ حال میں نومولود بچے کا نسب کس کے ساتھ ہوگا؟ اور اس مرد اور عورت کو کیا کوئی سزا دی جائے گی جن کے ساتھ بچے کا ڈی این اے ٹیسٹ میچ ہوا ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

جواب

  واضح رہے کہ شریعت میں نسب کے ثبوت کے متفقہ  طریقے:  فراش  (عورت جس مرد کے نکاح میں ہو ، اس سے بچہ کا نسب ثابت ہونا) ، شہادت (گواہی) اور اقرار ہیں،  لہذا ”ثبوت نسب“ کے سلسلے میں انہی شرعی طریقوں کا اعتبار ہے۔نیز  شریعت کا ضابطہ ہے کہ" الولد للفراش وللعاهر الحجر"کہ  شادی شدہ جوڑے کے ہاں بچہ پیدا ہونے کی صورت میں اس کا نسب بہر صورت اپنے والد سے ثابت ہوتا ہے یعنی جس کے نکاح میں عورت موجود ہے،اسی سے نسب ثابت ہوگا   ،البتہ  اگر شوہر اس  بچے کے نسب کا انکار کرتا ہے تو اس کے لیے بھی شریعت نے لعان کا طریقہ مقرر کیا ہے  ،جب دونوں قاضی کے سامنے  اپنا معاملہ پیش کریں اور پھر دونوں کے درمیان لعان ہو تو قاضی کے فیصلہ دینے سے بیوی سے نکاح بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہوجاتا ہے اور بچہ کا نسب باپ سے ختم ہوجاتا ہے اور بچہ ماں کی طرف منسوب ہوتا ہے ۔صورت مسئولہ میں  چونکہ  بچہ کی ماں مذکورہ شخص(شوہر)  کے نکاح میں تھیں ، اس لیے بچہ کا نسب  مذکورہ شخص(شوہر)   سے ہی ثابت ہو گا۔ 

2۔زنا کے ثبوت میں بھی ڈی این اے ٹیسٹ  کا کوئی اعتبار نہیں، اگر چار چشم دید نیک مسلمانوں کی گواہی یا اقرار سے ثابت ہوجائے تو ثابت ہوگا ورنہ نہیں، صورت مسئولہ میں چونکہ مدعی  ایک بھی چشم دید گواہ پیش نہیں کر سکالہٰذا زنا ثابت نہ ہوا، ڈی این اے ٹیسٹ کی بنیاد پر مرد اور عورت کو کوئی سزا نہیں دی جاسکتی ۔ 

صحیح بخاری میں ہے:

" حدثنا قتيبة: حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عائشة رضي الله عنها أنها قالت:اختصم سعد بن أبي وقاص وعبد بن زمعة في غلام، فقال سعد: هذا يا رسول الله ابن أخي عتبة بن أبي وقاص، عهد إلي أنه ابنه، انظر إلى شبهه. وقال عبد بن زمعة: هذا أخي يا رسول الله، ولد على فراش أبي من وليدته، فنظر رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى شبهه، فرأى شبها بينا بعتبة، فقال: (هو لك يا عبد، ‌الولد ‌للفراش ‌وللعاهر ‌الحجر، واحتجبي منه يا سودة بنت زمعة). فلم ترد سودة قط. "

ترجمہ:

” عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ کے درمیان ایک لڑکے کے نسب کے بارے میں اختلاف ہو گیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یارسول اللہ! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے۔ انہوں نے مجھے وصیت کی تھی کہ یہ ان کا بیٹا ہے۔ آپ اس کی مشابہت دیکھ لیجیے۔ عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا:یارسول اللہ! یہ میرا بھائی ہے۔ یہ میرے والد کے بستر پر ان کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے لڑکے کو غور سے دیکھا۔  اس کی شکل میں عتبہ سے واضح مشابہت پائی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا:" اے عبد! یہ بچہ تمہارا ہے، کیونکہ بچہ اسی کا شمار ہوتا ہے جس کے بستر پر پیدا ہو۔ اور زنا کرنے والے کے لیے محرومی (اور سزا) ہے۔اور اے سودہ بنت زمعہ! تم اس سے پردہ کرو۔ " چنانچہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نے اس لڑکے سے ہمیشہ پردہ کیا۔ “

( کتاب البیوع،  باب شراء المملوك من الحربي وهبته وعتقہ، ج: 2، ص: 1080، ط: مکتبۃ البشری )

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"قال أصحابنا: لثبوت النسب ثلاث مراتب (الأولى) النكاح الصحيح وما هو في معناه من النكاح الفاسد: والحكم فيه أنه يثبت النسب من غير عودة ولا ينتفي بمجرد النفي وإنما ينتفي باللعان، فإن كانا ممن لا لعان بينهما لا ينتفي نسب الولد كذا في المحيط."

( کتاب الطلاق، الباب الخامس عشر فی ثبوت النسب، ج:1، ص:536، ط:رشیدیه)

وفيها أيضا:

"إذا التعنا فرق الحاكم بينهما ولا تقع الفرقة حتى يقضي بالفرقة على الزوج فيفارقها بالطلاق، فإن امتنع فرق القاضي بينهما، وقبل أن يفرق الحاكم لا تقع الفرقة، والزوجية قائمة، يقع طلاق الزوج عليها وظهاره وإيلاؤه، ويجري التوارث بينهما إذا مات أحدهما".

(كتاب الطلاق، الباب الحادي عشر في اللعان، ج:1، ص:516، دارالفكر)

بدائع الصنائع میں ہے:

" وأما صفة النسب الثابت فالنسب في جانب النساء ... (وأما) في جانب الرجال فنوعان نوع يحتمل النفي ونوع لا يحتمله أما ما يحتمل النفي فنوعان (نوع) ينتفي بنفس النفي من غير لعان ونوع لا ينتفي بنفس النفي بل بواسطة اللعان (أما الذي) ينتفي بنفس النفي فهو نسب ولد أم الولد؛ لأن فراش أم الولد ضعيف؛ لأنه غير لازم حتى احتمل النقل إلى غيره بالتزويج فاحتمل الانتفاء بنفس النفي من غير الحاجة إلى اللعان (وأما) الذي ‌لا ‌ينتفي ‌بمجرد ‌النفي فهو نسب ولد زوجة يجري بينهما اللعان وهو أن يكون الزوجان حرين مسلمين عاقلين بالغين غير محدودين في القذف على ما ذكرنا في كتاب اللعان؛ لأن فراش النكاح لازم لا يحتمل النقل فكان قويا فلا يحتمل الانتفاء بنفس النفي ما لم ينضم إليه اللعان. "

( کتاب الدعوی، دعوى النسب، ج: 6، ص: 242، ط: دار الكتب العلمية )

فتاوی شامی میں ہے:

"و إن صدقته أربعًا لأنه ليس بإقرار قصدًا، و لاينتفي النسب لأنه حق الولد فلايصدقان في إبطاله.''

''(قوله: و لاينتفي النسب) لأنه إنما ينتفي باللعان ولم يوجد، وبه ظهر أن ما في شرحي الوقاية والنقاية - من أنها إذا صدقته ينتفي - غير صحيح كما نبه عليه في شرح الدرر والغرر بحر."

(باب اللعان، کتاب الطلاق، ج:3،ص:486، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710100819

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں