بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دیارغیرمیں قربانی کاحکم


سوال

میں بنگلہ دیش میں جاب کرتاہوں، میری فیملی پاکستان میں ہے، ہماری عید اٹھائیس تاریخ کو ہے، جب کہ پاکستان میں ستائیس تاریخ کو ،تو میں قربانی کس دن کروں ؟

جواب

صورت مسئولہ میں اگر آپ بنگلہ دیش میں رہ کر وہیں قربانی کریں گے تو اٹھائیس تاریخ کو  بنگلہ دیش میں جس دن عیدہے اس دن قربانی کرنا ہوگی، اگر اس سے پہلے ستائیس تاریخ کو بنگلہ دیش میں  قربانی کی کہ جس دن پاکستان میں عید ہے، تو واجب قربانی ادانہ ہوگی۔ اور اگر آپ خودبنگلہ دیش میں رہ کر بھی اپنی    قربانی پاکستان میں رقم بھیج کر کرناچاہیں تو تب بھی اٹھائیس تاریخ کو یعنی پاکستان میں عید کے دوسرے دن قربانی کرناضروری ہے، اگر اس صورت میں عید کے پہلے دن ہی قربانی کی توواجب قربانی ادا نہیں ہوگی۔ 

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"وروي عنهما أيضا أن الرجل إذا كان في مصر وأهله في مصر آخر فكتب إليهم ليضحوا عنه، فإنه يعتبر مكان التضحية."

(كتاب الأضحية، الباب الرابع فيما يتعلق بالمكان والزمان، ج:9، ص:47، ط:رشیدیة)

المحیط البرہانی میں ہے:

"وقت الأضحية ثلاثة أيام؛ اليوم العاشر، والحادي عشر، والثاني عشر من ذي الحجة، فإذا غربت الشمس من اليوم الثاني عشر لا تجوز الأضحية بعد ذلك، وأفضلها أولها."

(كتاب الأضحية، الفصل الثالث في وقت الأضحية،ج:6،ص:88،ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144712100148

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں