بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈیجیٹل اسکرین خرید کر واپس کمپنی کو اجارہ پر دینا اور کمپنی کا اسکرین واپس اسی قیمت پر خریدنے کا معاہدہ کرنا


سوال

ایک کمپنی ہے جس کے پاس ڈیجیٹل اسکرین ہوتی ہے، کسٹمر آکر پہلے اسکرین خریدتا ہے، اور اس پر بذات خود یا وکیل کے ذریعے قبضہ بھی کرلیتا ہے، اس کے بعد کسٹمر یہ اسکرین کمپنی کو ایک سال کے لیے کرایہ پر دیتا ہے، ایک سال مکمل ہونے کے بعد کسٹمر کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ اسکرین اپنے ساتھ لے جائے یا کسی اور پر بیچ دے، کمپنی بھی دوسرا کسٹمر تلاش کرنے میں تعاون کرتی ہے، اگرکوئی دوسرا کسٹمر نہ ملے تو کمپنی خود یہ اسکرین واپس خریدلیتی ہے، اور یہ خریدنا کم سے کم اس قیمت پر لازمی ہے جس پر ابتدائی طور پر سودا ہوچکا تھا۔اجارہ میں یہ شرط ہوتی ہے کہ معاہدہ کم سے کم چھ ماہ کا ہوگا، اور چھ ماہ سے قبل کسٹمر اسکرین کی واپسی کا مطالبہ نہیں کرسکتا ۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ مذکورہ معاملہ شرعاً درست ہے یا نہیں؟ اگر نہیں ہے تو جائز صورت کیا ہوسکتی ہے؟

جواب

مذکورہ صورت میں اگر فریقین باہم رضامندی سے اسکرین کی خریدوفروخت کے بعد اجارہ کا معاملہ کرتے ہیں، اور اس میں کسی قسم کا دباؤ بھی نہیں ہوتا، اور ناہی بیع میں اجارہ کی شرط لگائی جائے، نیز خریدنے والا کسٹمر حقیقۃ خود یا وکیل کے ذریعے اسکرین پرپہلے قبضہ کرلے، اور اس کے بعد الگ سے اجارہ کا معاملہ کیا جائے، تو یہ بیع اور اجارہ کا معاملہ درست ہے۔پھر اجارہ کی مدت مکمل ہونے کے بعد بھی کمپنی کی طرف سے کسی قسم کا دباؤ اسکرین کو بیچنے پر نہ ہو، بلکہ کسٹمر خودمختار ہو کہ جسے چاہے فروخت کرے، یا دوبارہ اجارہ پر اپنی رضامندی سے کسٹمر  کمپنی کو دے تو یہ صورت جائز ہے۔

البتہ اس معاملہ میں یہ شرط لگانا کہ آخر میں کسٹمر کو خریدار نہ ملے تو کمپنی اسکرین خود خریدے گی، اور کم سے کم اسی قیمت پر خریدے گی جس قیمت پر ابتداء میں اسکرین فروخت ہوئی تھی شرطِ فاسد ہے، بلکہ کمپنی چاہے تو کم قیمت پر خریدلے یا زیادہ پر لے، اسی طرح یہ شرط لگانا کہ اگر کسی معقول عذر سے مجبوراً اجارہ ختم کرنا ہو تو 6 ماہ سے قبل کسٹمر ختم نہیں کرسکتا ، یہ شرط بھی درست نہیں ہے، بلکہ ضرورت کی صورت میں مالک کی مرضی ہے جب چاہےعقد اجارہ  ختم کردے۔

اس معاملہ کی جائز صورت یہ ہے کہ مدتِ اجارہ ختم ہونے کے بعد کسٹمر خود مختار ہو، جسے چاہے اسکرین فروخت کرے،  کمپنی کی طرف سے واپس خریدنے کا لازمی معاہدہ نہ ہو، بلکہ کمپنی یہ بات کرے کہ اسکرین خریدنے پر غور کرے گی، اسی طرح   واپس اسی قیمت پر خریدنے کی شرط نہ ہو، بلکہ مارکیٹ ویلیویا باہمی معاہدہ کے مطابق قیمت طے کرکے خریدے؛ اس لیے کہ اس صورت میں اصل سرمایہ کی واپسی کی ضمانت مل رہی ہے، جبکہ درمیان میں اس سے نفع بھی حاصل ہوا ہے، لہذا یہ قرض پر نفع کے مشابہ ہے، جو کہ ناجائز ہے، اسی طرح اجارہ کسی معقول عذر سے ختم کرنا ہو تو کسٹمر جب چاہے ختم کرسکتا ہے، یہ شرط نہ لگائی جائے کہ چھ ماہ سے قبل ختم نہیں کرسکتا ،یہ  درست نہیں ۔

مبسوط سرخسی میں ہے:

" وإذا اشترى بيعا على أن يقرضه فهذا فاسد لنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن بيع وسلف ولنهيه صلى الله عليه وسلم ‌عن ‌بيع ‌وشرط. والمراد شرط فيه منفعة لأحد المتعاقدين لا يقتضيه العقد وقد وجد ذلك. "

( كتاب الصرف، باب القرض والصرف فيه، ج:14، ص:40، ط:دار المعرفة )

وفیہ ایضا:

" قال: وإذا اشتراه على أن يقرض له قرضا أو يهب له هبة أو يتصدق عليه بصدقة أو على أن يبيعه بكذا وكذا من الثمن فالبيع في جميع ذلك فاسد لنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن بيع وسلف وعن ‌بيعتين في بيعة. "

( كتاب البيوع، باب البيوع إذا كان فيها شرط، ج:13، ص:16، ط:دار المعرفة )

فتاوی ہندیہ میں ہے:

" وكل عذر لا يمنع المضي في موجب العقد شرعا ولكن يلحقه نوع ضرر يحتاج فيه إلى الفسخ. كذا في الذخيرة.

وإذا تحقق العذر ومست الحاجة إلى النقض هل يتفرد صاحب العذر بالنقض أو يحتاج إلى القضاء أو الرضاء اختلفت الروايات فيه والصحيح أن العذر إذا كان ظاهرا يتفرد، وإن كان مشتبها لا يتفرد. كذا في فتاوى قاضي خان. "

( كتاب الإجارة، الباب التاسع عشر في فسخ الإجارة بالعذر، ج:4، ص458، ط:رشیدیة )

فتاوی ھندیہ میں ہے :

" قال محمد - رحمه الله تعالى - في كتاب الصرف إن أبا حنيفة - رحمه الله تعالى - كان يكره كل قرض جر منفعة قال الكرخي هذا إذا كانت المنفعة مشروطة في العقد بأن أقرض غلة ليرد عليه صحاحا أو ما أشبه ذلك فإن لم تكن المنفعة مشروطة في العقد فأعطاه المستقرض أجود مما عليه فلا بأس به."

( کتاب البیوع، الباب التاسع عشر في القرض والاستقراض والاستصناع، ج:3، ص:202، ط:رشیدیة )

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711102178

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں