بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعہ سرجری و آپریشن کے طبی آلات فروخت کرنا / کاروباری تشہیر کی خاطر ماسک پہن کر ویڈیوز بنانا اور اُسے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنا


سوال

① کیا ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعے Surgical Goods (آپریشن وغیرہ کے لیے استعمال ہونے والا سامانِ جراحت) فروخت کرنا شرعاً جائز  ہے ؟

② کیا مصنوعات کی تشہیر کے لیے بنائی جانے والی ویڈیوز میں چہرہ  دکھانا درست ہے یا نہیں؟ اگر چہرہ دکھانا درست نہ ہو تو کیا ماسک پہن کر ویڈیو بنانا یا کسی دوسرے شخص کی تصویر، آواز، ہاتھ یا اینیمیشن استعمال کرنا جائز ہوگا؟

③ کیا ان ویڈیوز کو یوٹیوب، انسٹاگرام، یا فیس بک جیسے پلیٹ فارمز پر اپ لوڈ کر کے تشہیر کرنا شرعاً درست ہے؟

جواب

①واضح رہے کہ کسی بھی کاروبار کے جواز اور عدمِ جواز کا تعلق اس کاروبارکی نوعیت اور طریقۂ کارسے ہوتاہے، اگر وہ کاروبار بنیادی طور پر حلال اور جائز ہو، اس کا طریقۂ کار شرعی اصولوں کے مطابق ہو، اس میں کسی قسم کے غیر شرعی امر کا ارتکاب  نہ کرنا پڑتا ہو تو ایسا کاروبار کرنا جائز ہے اور اگر وہ کاروبارناجائز ہو یا کاروبار فی نفسہ  تو جائز ہو، لیکن اُس کے کرنے میں کسی غیر شرعی امرکا ارتکاب کرنا پڑتا ہو، یا اس کے کرنے کا طریقۂ کار شرعی اصولوں کے مطابق نہ ہو تو ایسا کاروبار کرنا جائز نہیں ہے،لہذابصورتِ مسئولہ  اگرڈیجیٹل مارکیٹنگ کے ذریعہ سرجری و آپریشن کے آلات (Surgical Goods) فروخت کرتے ہوئے  شرعی شرائط وضوابط کالحاظ رکھا جائے ، یعنی  اِس کاروبار کی خاطر جاندار کی تصاویر ، خاص  کرنامحرم عورتوں کی تصاویر  اور ویڈیوز پر مشتمل غیر شرعی اشتہارات وغیرہ نہ چلائے جائیں،مذکورہ آلات فروخت کرتے وقت فروخت کنندہ کی ملکیت و قبضہ میں ہوں ، یعنی بیع قبل القبض کی ناجائز صورت یا کسی قسم کی دھوکہ دہی وغیرہ کا ارتکاب لازم نہ آئے ،تو شرعاً جائز ہے۔

     فتاوی شامی میں ہے:

"والحاصل أن جواز البیع یدور مع حل الانتفاع."

(کتاب البیوع، باب البيع الفاسد، ج:5، ص: 69، ط:سعید)

وفيه ايضا:

"إذ من شرط المعقود عليه: أن يكون موجوداً مالاً متقوماً مملوكاً في نفسه، وأن يكون ملك البائع فيما يبيعه لنفسه، وأن يكون مقدور التسليم منح."

(کتاب البیوع، باب بیع الفاسد،5/ 58، ط: سعید)

②شریعت مطہرہ میں جان دار ذی روح کی تصویر کشی اور تصویر سازی ممنوع ہے اور اس پر وعیدیں وارد ہوئی ہیں،  جان دار کی تصویر سے مراد یہ ہے کہ ایسی تصویر ہو جس سے اس کا جان دار ہونا معلوم ہوتا ہو یعنی جاندار کی تصویر کی حکایت ہورہی ہو،  یا ایسی تصویر ہو کہ جس کی عبادت کی جاسکتی ہو،لہذا مصنوعات کی تشہیر کے لیے مذکورہ قسم کی  ویڈیوز بناناشرعاً جائز نہیں ہیں، خواہ اِس میں چہرہ نظرآئے، یا ماسک پہنا جائے،یا کسی دوسرے شخص یا جاندار کی تصویر اور اینیمیشن کا استعمال کیا جائے،بہرصورت جائز نہیں ہے۔ فقط غیر ذی روح جاندار (مثلاً درخت پودے وغیرہ)  یا پھر  ہاتھ پیر انگلیوں کی مثل انسانی اعضاء (جن سے جاندار کی تصویری حکایت نہ ہو، ان) کی تصویر اور اینیمیشن بناکر ویڈیوز میں استعمال کرنے کی شرعاً اجازت ہے۔

③کاروباری تشہیر کی خاطر "یوٹیوب، انسٹاگرام، فیس بک یا اِن  جیسے دیگر پلیٹ فارمز"کے استعمال میں بےشمار غیرشرعی امور، مفاسد اور خرابیوں کالامحالہ ارتکاب لازم آتا ہے،لہذا  اپنےکاوربار سے متعلق ویڈیوز (خواہ وہ شرعی شرائط کے عین مطابق بنی ہوئی ہوں) سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اپ لوڈ کرنے سے اجتناب کیا جائے۔

مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو:یوٹیوب، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا چینل پر کمانے کا حکم

سابق مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع رحمہ اللہ  فرماتے ہیں:

"تصویرکشی اور تصویر سازی کسی جان دار کی کسی حال میں جائز نہیں ہے۔"

(جواہر الفقہ (جدید)،تصویر کے شرعی احکام، ج:7، ص:231، ط:مکتبہ دارالعلوم)

صحیح مسلم میں ہے:

"عن نافع، أن ابن عمر أخبره، ‏‏‏‏‏‏أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ " الذين يصنعون الصور يعذبون يوم القيامة، يقال لهم: أحيوا ما خلقتم".

(كتاب اللباس والزينة،باب لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة،ج:3، ص:1669، ط:دار إحياء التراث العربي)

ترجمہ:" سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو لوگ تصویریں بناتے ہیں ان کو قیامت میں عذاب ہو گا، ان سے کہا جائے گا زندہ کرو  ان کو جن کو تم نے بنایا۔"

عمدۃ القاری میں ہے:

"قال أصحابنا وغيرهم ‌تصوير ‌صورة ‌الحيوان حرام أشد التحريم وهو من الكبائر وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره فحرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله وسواء كان في ثوب أو بساط أو دينار أو درهم أو فلس أو إناء أو حائط وأما ما ليس فيه صورة حيوان كالشجر ونحوه فليس بحرام وسواء كان في هذا كله ما له ظل وما لا ظل له وبمعناه قال جماعة العلماء مالك والثوري وأبو حنيفة وغيرهم."

(كتاب اللباس، باب عذاب المصورين يوم القيامة، ج:22، ص:70، ط:دار إحياء التراث العربي)

فتاوی شامی  میں ہے:

"وظاهر كلام النووي في شرح مسلم الإجماع على تحريم تصوير الحيوان، وقال: وسواء صنعه لما يمتهن أو لغيره، فصنعته حرام بكل حال لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء كان في ثوب أو بساط أو درهم وإناء وحائط وغيرها اهـ فينبغي أن يكون حراما لا مكروها إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل بتواتره اهـ كلام البحر ملخصا."

(كتاب الصلاة، باب ما يفسد اصلاة و ما يكره فيها، ج:1، ص:647، ط: سعيد) 

بدائع الصنائع میں ہے:

"والوسيلة ‌إلى ‌الحرام ‌حرام."

(كتاب الإستحسان، ج:5، ص:120، ط:دار الكتب العلمية)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101670

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں