بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈیجٹل گولڈ اور سلور خریدنے کا حکم


سوال

ڈیجیٹل گولڈ اور سلور خریدنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ڈیجیٹل گولڈ اور سلور کی خرید و فروخت میں دو صورتیں رائج ہیں ،پہلی صورت یہ ہے کہ گولڈ اور سلور کی خرید و فروخت مقصود ہی نہیں،نہ قبضہ مطلوب ہے ،نہ حقیقۃ پیسوں کی ادائیگی ہے،بس اتار چڑھاؤ سے  کمانا مقصود ہے ،یہ صورت سود ہونے کی وجہ سے حرام ہے ،دوسری صورت یہ ہے کہ گولڈ اور سلور کی خرید و فروخت مقصود ہے،پیسوں کی ادائیگی بھی ہے ،یہ بھی ناجائز ہے،اس لیے کہ یہ بیع صرف(باہم اثمان ،زیورات کی خرید و فروخت )ہے اور بیع صرف میں  متعاقدین کا مجلس عقد میں دونوں عوض پر قبضہ کرنا ضروری ہوتا ہے،اورمذکورہ خرید و فروخت چوں کہ  ڈیجیٹل ہے، متعاقدین کی مجلس ہی الگ الگ ہے،خریدار اپنے بدن کے ساتھ کہیں اور بیچنے والا  کہیں اور ،تو خریدار  کا سونے پر اور فروخت کرنے والے کا پیسوں پر قبضہ  ایک مجلس کے بجائے  الگ الگ مجلسوں میں ہو رہا ہے  ،اس لیے یہ بیع  بھی باطل ہوئی ،پس ڈیجیٹل سونا اور سلور خرید نا جائز نہیں ، اور نفع بھی حلال نہیں۔

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"(وأما شرائطه) فمنها قبض البدلين قبل الافتراق كذا في البدائع سواء كانا يتعينان كالمصوغ أو لا يتعينان كالمضروب أو يتعين أحدهما ولا يتعين الآخر كذا في الهداية وفي فوائد القدوري المراد بالقبض ههنا القبض بالبراجم لا بالتخلية يريد باليد كذا في فتح القدير وتفسير الافتراق هو أن يفترق العاقدان بأبدانهما عن مجلسهما بأن يأخذ هذا في جهة وهذا في جهة أو يذهب أحدهما ويبقى الآخر حتى لو كانا في مجلسهما لم يبرحا عنه لم يكونا متفرقين، وإن طال مجلسهما إلا بعد الافتراق بأبدانهما وكذا إذا ناما في المجلس أو أغمي عليهما وكذا إذا قاما عن مجلسهما معا وذهبا في جهة واحدة وطريق واحد ومشيا ميلا أو أكثر ولم يفارق أحدهما صاحبه فليسا بمتفرقين كذا في البدائع۔ولو كان لأحدهما على صاحبه ألف درهم وللآخر عليه دنانير فنادى أحدهما صاحبه من وراء الجدار أو من بعيد فقال بعتك ما لي عليك بما لك علي لم يجز."

(کتاب الصرف، ج:3،ص:217،ط:رشیدیہ)

فتاوی شامی میں ہے:

"(هو) لغة الزيادة. وشرعا (بيع الثمن بالثمن) أي ما خلق للثمنية ومنه المصوغ (جنسا بجنس أو بغير جنس) كذهب بفضة (ويشترط) عدم التأجيل والخيار و (التماثل) أي التساوي وزنا (والتقابض) بالبراجم لا بالتخلية (قبل الافتراق) وهو شرط بقائه صحيحا على الصحيح."

(کتاب البیوع، باب الصرف، ج:5،ص:258)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144712100302

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں