بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ڈائیلاسس (خون کی صفائی) کروانے سے اور انجکشن لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا


سوال

 کیا ڈائیلاسس کروانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟ کیا انجیکشن لگوانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟ جیسے طاقت کا نیوروبیون انجیکشن، جو خون میں جانے کے بعد منہ میں ذائقہ محسوس ہوتا ہے، کیا اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب

  واضح رہے کہ ڈائیلاسس(خون کی صفائی) کروانے سے اور انجکشن لگوانے سے  روزہ نہیں ٹوٹتا، روزے کی حالت میں ڈائیلاسس کروانا اور انجکشن لگوانا جائز ہے، خواہ رگ میں لگوایا جائے یا گوشت میں؛  کیوں کہ انجکشن کے ذریعہ جو دوا بدن میں پہنچائی جاتی ہے وہ   خلقی راستوں سے نہیں، بلکہ رگوں یا مسامات کے ذریعہ بدن  میں  جاتی ہے۔ البتہ صرف  روزہ محسوس نہ ہونے کے لیے طاقت کا انجکش لگوانا مکروہ ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"و ما يدخل من مسام البدن من الدهن لايفطر"

(کتاب الصوم، الباب الرابع فيما يفسد وما لا يفسد، ج: 1، ص: 203، ط: دار الفکر)

رد المحتار علی الدرالمختار میں ہے:

"لأن الموجود فی خلقہ أثر داخل من المسام الذي هو خلل البدن، و المفطر إنما هو الداخل من المنافذ للإتفاق على أن من اغتسل في ماء فوجد برده في باطنه أنه لايفطر،"

( کتاب الصوم، باب مالایفسد الصوم و ما لایفسدہ، ج: 2، ص: 395 )

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144709100571

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں