
ہم سات بھائی اور ایک اکلوتی بہن ہے، ہمارےوالدین انتقال ہوچکا ہے، وراثت میں ایک مکان ہے جس کی کل قیمت ڈھائی کروڑ روپے، شریعت کی رو سے اِس بہن اور دیگر بھائیوں کو مذکورہ مکان میں سے کتنا کتنا حصہ ملے گا؟
صورتِ مسئولہ میں مرحوم والدین کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلےکل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ میں سے مرحومین کے حقوقِ متقدمہ یعنی تجہیز و تکفین کے اخراجات ( اگر اب تک ادا نہ کیےگئے ہوں، یا کسی نے بطور قرض ادا کیے ہوں، تو) نکالنے کے بعد، اگر ان پر ہو، تو اس کی ادائیگی کے بعد، اگر مرحومین نے کوئی جائز وصیت کی ہو ،تو اسے ایک تہائی میں سے پورا کرنے کے بعد باقی کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو 15 حصوں میں تقسیم کر کے دو، دو حصے ہر ایک بیٹے کو، اور ایک حصہ اکلوتی بیٹی کو ملے گا۔
صورتِ تقسیم یہ ہے:
میت:15
| 2 | 2 | 2 | 2 | 2 | 2 | 2 | 1 |
| بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی |
یعنی متروکہ مکان کی (سوال میں ذکر کردہ ) مالیت ڈھائی کروڑ میں سے 33,33,333.333 روپے ہر ایک بیٹے کو، اور 16,66,666.666 روپے اکلوتی بیٹی کو ملیں گے۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144705101678
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن