
1۔ایک بلڈنگ بن رہی ہے،اس کی خریدوفروخت ہورہی ہے،ابھی پوری بنی نہیں ہے،صرف نیچے کی دکانیں بنی ہیں،اوپر کا ڈھانچہ نہیں بنا ہے،لیکن اس کی بکنگ ہورہی ہے،جیسے تیسرا فلور بنا نہیں ہے،لیکن اس میں جتنے فلیٹ بنیں گےاس کی خرید وفروخت ہورہی ہے،یعنی فائلیں فروخت ہورہی ہیں،تو آیا ایسے فلیٹس کی خریدو فروخت جائز ہے یا نہیں؟
2۔اگر فلیٹ نہ بنا ہو اور کسی نے بلڈر سے ایک کروڑ میں اس کی فائل خرید ی اور بلڈر نے اس کو اجازت دی ہوکہ آپ اس کو ایک کروڑ سے زائد پر بیچ سکتے ہو تو آیا ا س فلیٹ کی فائل آگے کسی اور کو نفع کے ساتھ بیچنا جائز ہے؟
نوٹ: نقشہ بنا ہواہے۔
1) صورتِ مسئولہ میں جب فلیٹوں کاڈھانچہ اور وجود ہی نہیں ہے بلکہ محض نقشہ بنا ہوا ہے اور مستقبل میں ان فلیٹوں کی تعمیر کا ارادہ ہےتو ایسے فلیٹس کی خریدوفروخت شرعا درست نہیں ہے، البتہ یہ صورت اختیار کی جاسکتی ہے کہ وجود میں آنے سے قبل فلیٹس کی حتمی خرید و فروخت کی بجائے خریدوفروخت کا وعدہ کرلیاجائے،وعدہ کی صورت میں کچھ رقم ایڈوانس کے طور پر لے لی جائے اور جب فلیٹ وجود میں آجائے، پھر مکمل طور پرخرید و فروخت کی بات کرلی جائے۔
2) چوں کہ خرید فروخت کے وعدہ پرحقیقی خریدو فروخت کے احکامات لاگو نہیں ہوتے،یعنی کسی چیز کی خریداری کا وعدہ کرنے سے وہ چیز کسی کی ملکیت میں نہیں آتی ،خصوصا جبکہ صورتِ مسئولہ میں فلیٹس کا اب تک وجود بھی نہیں ہیں، اس لئے بطور ِوعدہ فلیٹ بک کروانے کے بعد اسٹرکچر کی تعمیر سے پہلے ان کوآگے فروخت کرنا جائز نہیں ہے،البتہ بغیر نفع کے خریدار اس فلیٹ کی فائل آگے کسی کو حوالے کر سکتا ہے ،اور جتنی رقم / قسطیں خریدار ادا کر چکا ہے اتنی ہی رقم وہ اس سے لے سکتا ہےجس کو فائل حوالے کر رہا ہے۔
بدائع الصنائع فی ترتیب الشرائع میں ہے:
"وأما الذي يرجع إلى المعقود عليه فأنواع (منها) : أن يكون موجودا فلا ينعقد بيع المعدوم الخ."
(کتاب البیوع،فصل فی الشرائط اللذی یرجع الی المعقود علیه،ج:5ص:138،ط:سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
"(بطل بيع ما ليس بمال)....(والمعدوم كبيع حق التعلي) أي علو سقط؛ لأنه معدوم.
(قوله والمعدوم كبيع حق التعلي) قال في الفتح: وإذا كان السفل لرجل وعلوه لآخر فسقطا أو سقط العلو وحده فباع صاحب العلو علوه لم يجز؛ لأن المبيع حينئذ ليس إلا حق التعلي، وحق التعلي ليس بمال؛ لأن المال عين يمكن إحرازها وإمساكها ولا هو حق متعلق بالمال بل هو حق متعلق بالهواء، وليس الهواء مالا يباع والمبيع لا بد أن يكون أحدهما."
(کتاب البیوع، باب البیع الفاسد ج:5ص: 50،ایچ ایم سعید)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144708100614
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن