بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

چار ہزار کی آبادی جہاں تمام اشیاء میسر نہ ہوں ، جمعہ کی ادائیگی کا حکم


سوال

ہم جس گاؤں میں رہتے ہیں، اس کی آبادی میں تقریباً پانچ گھر ہیں اور اس گاؤں کے ساتھ ایک دوسراگاؤں ہے، جس کی آبادی تقریباً50 ،60گھر ہیں،جس میں تقریباً500 افراد ہوں گے،اور اسی طرح ہمارے گاؤں کے سامنے ایک اور گاؤں ہے جس تقریباًدو سے تین ہزار تک آبادی ہے،اور ان دونوں گاؤں میں ضروریات کی اشیاء نہیں ملتی جن کی خریداری کے لیے تقریباًپندرہ کلومیٹر دور جانا پڑتا ہے،ان بستیوں میں صرف سکول ہے۔

اسی طرح ایک اور گاؤں ہے جو ہمارے گاؤں سے دو کلومیٹر دور ہے،جس کی آبادی چارہزار تک ہے،لیکن ضروریات کی چیزیں نہیں ملتی، صرف ان سب گاؤں میں روزانہ کی کھانے پینے کی اشیاء اور سودا (دال چینی)ملتا ہے ،باقی کچھ نہیں ہے ،جوتے ، گوشت ،علاج وغیرہ کے لیے ہمیں سفرکرنا پڑتا ہے،نیز ان بستیوں میں مستقل بازار نہیں ہے،اور ان سب بستیوں  کی طرز زندگی  دیہاتی ہے نہ کہ شہری۔

اب سوال یہ ہے کہ:

ہم پر جمعہ فرض ہےیانہیں،اگر فرض ہے تو انہی مساجد میں پڑھیں یا شہر میں؟

اگر فرض نہیں ہے تو جو جمعے ہم نے پڑھے ہیں ان کی قضاء ہے یا نہیں؟

وضاحت :نیز ان بستیوں میں جمعہ کی نماز کافی عرصہ سے ادا کی جارہی ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر ان گاؤں میں سے ہر ایک مستقل گاؤں شمار کیا جا تا ہو اور ہر ایک کی آبادی دوسرے گاؤں سے جدا ہو، تو جن گاؤں اور بستیوں میں آبادی دو ، ڈھائی ہزار سےکم ہے ، ان میں جمعہ کی نماز کی ادائیگی شرعاً جائز نہیں ہے ۔ 

اور سوال میں ذکر کردہ صراحت کے مطابق جس گاؤں کی آبادی   چار ہزار  کے لگ  بھگ افراد پر مشتمل ہواور بنیادی ضروریات زندگی بھی وہاں میسر ہیں،  تو چوں کہ عمو ماًچار ہزار   کے لگ بھگ آبادی پر مشتمل گاؤں بڑے قریہ میں شمار ہو تا ہے،اور بڑے گاؤں میں جمعہ واجب ہوتا ہے ، مزید یہ کہ وہاں  سالہا سال سے جمعہ اور عیدین کی نماز  جاری ہے،تو ایسی صورت میں وہاں جمعہ اور عیدین کی نماز قائم کرنا درست ہے،اگرچہ وہاں کوئی بڑا بازار موجود نہیں اور نہ ہی زندگی کی تمام ضروریات میسر ہیں،مگر باعتبار آبادی کے یہ قریہ کبیرہ کے ساتھ ملحق شمار ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"تقع ‌فرضا ‌في ‌القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق قال أبو القاسم: هذا بلا خلاف إذا أذن الوالي أو القاضي ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعة لأن هذا مجتهد فيه فإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه، وفيما ذكرنا إشارة إلى أنه لا تجوز في الصغيرة التي ليس فيها قاض ومنبر وخطيب كما في المضمرات والظاهر أنه أريد به الكراهة لكراهة النفل بالجماعة."

(کتاب الصلوۃ، باب الجمعة، ج:2، ص:138، ط:ایچ ایم سعید)

بدائع الصنائع میں ہے:

" أما ‌المصر ‌الجامع فشرط وجوب الجمعة وشرط صحة أدائها عند أصحابنا حتى لا تجب الجمعة إلا على أهل المصر ومن كان ساكنا في توابعه وكذا لا يصح أداء الجمعة إلا في المصر وتوابعه فلا تجب على أهل القرى التي ليست من توابع المصر ولا يصح أداء الجمعة فيها."

(کتاب الصلوۃ، باب الجمعة، ج:1، ص:259، ط:دارالکتب العلمیة)

فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے:

”محققین کی تحقیق یہ ہے کہ جو قریہ مثل چھوٹے قصبہ کے ہو مثلاً تین چار ہزار آدمی اس میں آباد ہوں وہ قریہ کبیرہ ہے اور جو اس سے کم ہو وہ چھوٹا ہے۔“

(کتاب الصلوۃ ج:1،ص:294 ، ط:دارالاشاعت)

فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے: 

”سوال :موضع سوجڑو  وضلع مظفر نگر میں تقریبا تین ہزار مردم شماری یا کچھ کم ہے اور بازار اس موضع میں نہیں ہے اور کوئی سودا وغیرہ یا دوا بھی نہیں ملتی اور موضع کو شہر سے فصل کوس سوا کوس کا ہے ایسے دیہات میں جمعہ جائز ہے یا نہیں ؟۔

الجواب: شامی میں تصریح کی ہے کہ قصبہ اور بڑے قریہ میں جمعہ صحیح ہے ،عبارت اس کی یہ ہے"تقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق قال أبو القاسم: هذا بلا خلاف إذا أذن الوالي أو القاضي ببناء المسجد الجامع وأداء الجمعة لأن هذا مجتهد فيه فإذا اتصل به الحكم صار مجمعا عليه، وفيما ذكرنا إشارة إلى أنه لا تجوز في الصغيرةالخ" پس قریہ مذکورہ بظاہر قریہ کبیرہ کہ آبادی اس کی تین ہزار کے قریب ہے ، لہذا جمعہ پڑھنا اس میں واجب ہے اور صحیح ہے۔“

(کتاب الصلوۃ،الباب الخامس عشر: فی صلوۃ الجمعۃ ،ج:5،ص:62،ط: دار الاشاعت)

وفیہ ایضا:

”سوال:موضع رلبدھنہ میں دوہزار آٹھ سو آبادی ہے اور یہاں پر پیٹھ لگتی ہے یعنی کل چیزیں تو فروخت نہیں ہوتی ہاں نمک مرچ ترکاری بکتی ہے ۔سولہ دکانیں نمک مرچ گڑ چاول والوں کی کہیں آباد ہیں ایک جگہ پر بازار کی شکل میں نہیں ، چار مسجدیں اس جگہ ہیں اور دو مسجدوں میں جمعہ ہوتا ہے ۔ اب فرمائیے کہ یہ قصبہ کا حکم رکھتا ہے یا گاؤں کا ؟

الجواب:آپ کی تحریر سے معلوم ہوا کہ موضع رلبدھنہ میں قریب تین ہزار آدمیوں کے آباد ہیں ، بندہ کے خیال میں وہ بڑا قریہ ہے اور شامی میں لکھا کہ بڑے قریہ میں جمعہ واجب الاداءہوتا ہے ۔ عبارت اس کی یہ ہے"وتقع فرضا في القصبات والقرى الكبيرة التي فيها أسواق الخ" اگر چہ موضع مذکور میں بازار نہیں ہے مگر باعتبار آبادی کے اس کو ملحق بالقصبہ کرسکتے ہیں۔“

(کتاب الصلوۃ ، الباب الخامس عشر: فی صلوۃ الجمعۃ، ج:5،ص:128،129، ط: دارالاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708100012

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں