بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دیور اور بھابی کا گلے ملنا اور اسی طرح چاچی کا حکم


سوال

کیا بھابی اپنے دیور سے  گلے مل سکتی ہے؟ یا دیور بھابی سے گلے مل سکتا ہے؟ اسی طرح چاچی؟

جواب

واضح رہے کہ دیور، جیٹھ اور بھابی ایک دوسرے کے لیے نامحرم ہیں، لہذا صورتِ مسئولہ میں بھابی کا اپنے دیور کو، یا دیور کا اپنی بھابی کو گلے ملنا، شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔ ان رشتوں میں مکمل پردے اور حدودِ شرعیہ کی پابندی لازم ہے، نیز بے تکلفی سے اجتناب ضروری ہے، کیوں کہ  نبی کریم صلي اللہ علیہ وسلم نے دیور کے معاملے میں بے احتیاطی کو ’’موت‘‘ سے تعبیر فرمایا ہے، دوسری روایت میں ہے: ’’کہ مرد کے لیےاپنے سر کو لوہے کے  کنگھے سے زخمی کرنا بہتر ہے اس بات سے کہ وہ نا محرم خاتون کو چھوئے‘‘  جس سے اس مسئلے کی سنگینی اور غیر معمولی احتیاط کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

بخاری شریف میں ہے:

"عن عقبة بن عامر: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:  إياكم والدخول على النساء، فقال رجل من الأنصار:  يا رسول الله،  أفرأيت الحمو؟ قال: الحمو الموت ".

(باب لا يخلون رجل بامرأة إلا ذو محرم والدخول على المغيبة  (5/ 2005) برقم (4934)، ط.  دار ابن كثير ، اليمامة - بيروت)

طبرانی کبیر میں ہے:

"عن أبي العلاء حدثني معقل بن يسار قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لأن يطعن في رأس رجل بمخيط من حديد خير له من أن يمس امرأة لا تحل له".

(أخرجه الطبراني في الكبير (20/ 212) برقم (487)، ط:مكتبة العلوم والحكم - الموصل)

رد المحتار میں ہے:

"وفي الأشباه: الخلوة بالأجنبية حرام."

(‌‌كتاب الحظر والإباحة، ‌‌فصل في النظر والمس (6/368)، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702101595

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں