بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا دیوبندی لڑکی کا نکاح بریلوی لڑکے سے جائز ہے؟


سوال

1۔جب دو لوگ قسم کھائیں کہ ہم دونوں اللہ کو حاضر ناظر جان کرکےیہ قسم کھاتے ہیں کہ ہم دونوں ایک دوسرے کا ساتھ نہیں چھوڑیں اگر دونوں میں سے کسی ایک نے ساتھ چھوڑا تو وہ ایمان سے گیا،اب اگر دونوں میں سے کوئی ایک حانث ہوگیا تو  کیا قسم کا کفارہ ادا کرنا پڑے گا یا پھر دوبارہ ایمان لانا ضروری ہوگا؟اور اگر حانث ہوبھی گیا تو  کیا اس کا ایمان ختم ہوجائے گا؟

2۔کیا بریلوی لڑکا اور دیوبندی لڑکی کا نکاح ہوسکتا ہے یانہیں ؟

جواب

1۔صورت مسئولہ میں اگر دو لوگ اس طرح  قسم کھائیں کہ" ہم دونوں اللہ کو حاضر ناظر جان کرکے یہ قسم کھاتے ہیں  کہ ہم دونوں ایک دوسرے کا ساتھ کبھی بھی نہیں چھوڑیں گے اگر دونوں میں سے  کسی ایک نے ساتھ چھوڑا تووہ ایمان سے جائے گا"تو   حانث ہو نے کی صورت میں   آدمی  دائرۂ  اسلام سے خارج نہیں ہوگا، البتہ  قسم ٹوٹ جانے کی وجہ سے قسم کا کفارہ ادا کرنا لازم  ہوگا، قسم کا کفارہ یہ ہے کہ  دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلایاجائے  یا دس مسکینوں میں سے ہر ایک کو صدقۃ الفطر کی مقدار کے بقدر گندم یا اس کی قیمت  ( یعنی پونے دو کلو گندم یا اس کی رقم )  دے دی جائےاور اگر جَو دیں تو اس کا دو گنا (تقریباً ساڑھے تین کلو) دی جائے،  یا دس فقیروں کو  ایک ایک جوڑا کپڑا پہنا دیاجائے۔ اور اگر  مالی حالت ایسی ہے کہ نہ تو کھانا کھلا سکتا ہو  اور نہ کپڑے دے سکتا ہو  تو مسلسل تین روزے رکھ لیے جائیں۔باقی  آئندہ اس قسم کی قسمیں  اٹھانے  سے  بالکل اجتناب کریں۔

بہشتی زیور میں ہے:

"مسئلہ:  یوں کہا اگر فلانا کام کروں تو بے ایمان ہو کر مروں مرتے وقت ایمان نہ نصیب ہو بے ایمان ہو جاؤں یا اس طرح کہا اگر فلانا کام کروں تو میں مسلمان نہیں تو قسم ہو گئى اس کے خلاف کرنے سے کفارہ دینا پڑے گا اور ایمان نہ جائے گا۔"

(حصہ سوم ، ص: 145، قسم کھانے کا بیان، ط: توصیف پبلیشر)

فتاوی دارالعلوم دیوبند میں ہے:

"سوال: شخصے حلف کرد کہ بر زید ظلم وحق تلفی او نخواہم کرد اگر کنم پس من کافر و از شفاعت شفیع المذنبین بریم، پس اگر بر زید ظلم وحق تلفی او کند بموجب یمین خود کافر گرد و از شفاعت شفیع المذنبین بروخواہد شد یا نہ؟

(الجواب) این قسم ست کہ بصورتِ حنث کفارہ بر لازم شود، درکفر او بصورت حنث اختلاف است واضح انست کہ کافر نہ شود۔"

( باب الیمین،ج:12،ص:35، ط: دارالاشاعت)

2۔صورتِ مسئولہ میں دیوبندی  مسلک کی لڑکی اور بریلوی مسلک کے لڑکے  کے در میان نکاح فی نفسہ  جائزہے،  البتہ  دیوبندی مسلک کا   کوئی برابر لڑکا اگر  مل  جائے تو اس کو تر جیح  دینا بہتر اور افضل ہوگا، تاکہ مسلک کے اختلاف کی وجہ سے نکاح متاثر نہ ہو۔

جامعہ ہٰذا کے رئیس دار الافتاء مفتی محمد عبدالسلام چاٹ گامی صاحب رحمہ اللہ  ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں، جس پر مفتی ولی حسن ٹونکی صاحب رحمہ اللہ کی تصدیق موجود ہے:

"واضح رہے کہ بریلوی حضرات کے بعض عقائد کی بنا پر ان کی گم راہی اور غلطی پر ہونے کا فتویٰ دیا جاسکتاہے، لیکن کافر اور مرتد ہونے کا فتویٰ نہیں دیا جاسکتا، اور نہ ہی دیوبندیوں میں سے کسی معتبر عالم نے   بریلویوں کے کافر ہونے کا فتویٰ دیا ہے، اس لیے ہم بریلویوں کو مطلقاً کافر  نہیں سمجھتے، ضرورت کے تحت ان سے اسلامی تعلقات، نکاح وشادی، کھانا پینا اور دوسرے معاملات کو جائز سمجھتے ہیں، اور ہم اختلاف و انتشار کے قائل نہیں۔۔۔ البتہ بریلوی حضرات میں سے جو لوگ ہمیں اور اکابرِ دیوبند کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں ان کے بارے میں ہماری رائے یہ ہے کہ دیوبندی مسلک کے لوگ ان سے تعلقات نہ رکھیں، کیوں کہ ایسے لوگوں کے ساتھ تعلقات رکھنے سے اتفاق کی جگہ انتشار ہوگا۔"

کتبہ: محمد عبدالسلام (10/10/1395)۔۔۔۔ الجواب صحیح: ولی حسن ٹونکی"

فتاوی شامی میں ہے:

"و كفارته تحرير رقبة أو إطعام عشرة مساكين أو كسوتهم بمايستر عامة البدن ... و إن عجز عنها صام ثلاثة أيام ولاء."

(کتاب الإیمان، ج:3، ص: 727، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701101258

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں