
ایک لڑکی شادی کے چھ سال بعد دماغی مریضہ بن گئی، اس لیے اس لڑکی کے پاس جو زیور تھا وہ اس کی ماں کے حوالے کردیا گیا ، تاکہ وہ کہیں بیچ کر نہ آجاۓ ۔
لڑکی کی تین اولادیں ہیں۔دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ۔ ایک بیٹی کی عمر 16 سال ہے۔ اب شوہر یہ تقاضہ کررہے ہیں کہ وہ زیور ان کے حوالے کردیا جاۓ تاکہ وہ اپنی بیٹی کی شادی کرسکیں ، نیز بیمار لڑکی کے والد بھی حیات نہیں ، کیا ایسی صورت میں زیور شوہر کو دیا جاۓ گا یا نہیں، کیوں کہ شوہر کی طرف سے کوئی ضمانت نہیں بایں طور کہ وہ خود استعمال نہ کرلے۔ شرعی رہنمائی فرمائیں ۔
وضاحت : لڑکی کے والد صاحب نے مجھے (چھوٹا بھائی / لڑکی کے چچا) اپنی زندگی میں ولی بنایا ، تاکہ میں اپنی بھتیجی کے معاملات دیکھ سکوں ، لڑکی کو اپنے والد سے وراثت میں مکان حصہ میں ملا تھا ، اس مکان سے آنے والے کرایہ کو میں لڑکی کے علاج معالجے اور دیگر ضروریات پر خرچ کرتا ہوں۔
صورت مسئولہ میں دماغی طور پر لڑکی کے والد مرحوم نے اگر واقعتًا اپنے چھوٹے بھائی (سائل )کو اپنی زندگی میں لڑکی کے معاملات کی دیکھ بھال کے لیے مقرر کیا تھا تو ایسی صورت میں بیمار لڑکی کے اموال کی دیکھ بھال کا حق دار شرعا سائل ہے ۔
درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے :
"يراد بالولاية هنا نفاذ تصرف الولي في حق الغير شاء أم أبى، والولي: هو الذي يحق له التصرف في مال الغير بدون استحصال إذن برضاء صاحب المال، وهذا بعكس الوكيل فالوكيل وإن تصرف في مال الغير فتصرفه مقرون برضاء صاحب المال. هذا والولاية الخاصة إما أن تكون ولاية في النكاح والمال، والولي في ذلك الجد أو الأب أو أبو الجد، وإما أن تكون في النكاح فقط أو في المال فقط فالولي في النكاح فقط جميع العصبات والأم وذوي الأرحام، والولي في المال فقط أولا أبو الصغير.
ثانيا الوصي الذي اختاره أبوه ونصبه في حال حياته إذا مات أبوه.
ثالثا الوصي الذي نصبه الوصي المختار في حال حياته إذا مات.
رابعا جده الصحيح أي أبو أب الصغير.
خامسا الوصي الذي اختاره الجد ونصبه في حال حياته.
سادسا الوصي الذي نصبه هذا، كما هو مذكور في المادة (٩٧٤) وولاية الوقف هي من هذا القبيل ولاية خاصة أيضا."
(مقدمة كتاب درر الحكام، المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية ، ج :1، ص :58، ط :دار الجيل)
رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:
"الولاية في مال الصغير للأب ثم وصيه ثم وصي وصيه ولو بعد، فلو مات الأب ولم يوص فالولاية لأبي الأب ثم وصيه ثم وصي وصيه، فإن لم يكن فللقاضي ومنصوبه."
(کتاب الوصایا، باب الوصي، ج :6، ص :714، ط :سعید)
وفیه أیضاً :
"(الولي في النكاح) لا المال (العصبة بنفسه) ... (قوله: لا المال) فإن الولي فيه الأب ووصيه والجد ووصيه والقاضي ونائبه."
(کتاب النکاح، باب الولي، ج :3، ص ؛76، ط :سعید)
فقط واللہ تعالی اعلم
فتویٰ نمبر : 144801101283
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن