
فوڈ ڈیلیوری کا کام کرتا ہوں جس میں غیر ذبیحہ کا گوشت بھی شامل ہوتا ہے، آمدنی کا حکم کیا ہے؟
ایک مسلمان کے لیے حرام غیر ذبیحہ گوشت کو ڈیلیور کرنا جائز نہیں ہے، کیوں کہ مسلمان کے لیے شریعتِ مطہرہ میں جو چیز حرام ہے، اس حرام چیز کا خریدنا یا فروخت کرنا یا کسی کو فراہم کرنا بھی حرام ہے۔لہذا متبادل مکمل حلال روزگارکے حصول کی کوشش کیجیے، یا جس ادارے سے آپ کا تعلق ہے اس کی انتظامیہ سے درخواست کریں کہ مسلمان ہونے کی وجہ سے آپ کے لیے حرام اشیاء کی ڈیلیوری ممکن نہیں ہے، وہ ایسے آرڈر آپ کے حوالے نہ کریں، اور جب تک مذکورہ دونوں صورتیں ممکن نہ ہوں توبہ و استغفار کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے مانگتے رہیے اور حرام اشیاء کی ڈیلیوری پر حاصل ہونے والی رقم بغیر ثواب کی نیت کے صدقہ کردیں۔ تاہم جو پیسے حلال اشیاء کی ڈیلیوری کے عوض ملے ہوں، ان کا استعمال جائز ہوگا۔
قرآن کریم میں ہے:
"وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ[المائدة: 2]"
"ترجمہ: نیکی اور تقوی میں ایک دوسرے کی اعانت کر تے رہو گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو اور اللہ تعالی سے ڈرا کرو بلاشبہ اللہ تعالی سخت سزا دینے والے ہیں "( بیان القرآن )
"حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ.[المائدة:3]"
ترجمہ:"تم پر حرام کیے گئے مردار اور خنزیر کا گوشت اور جو جانور کہ غیر اللہ کے لیےنامزد کردیا گیا ہو۔" ( بیان القرآن )
احکام القرآن للجصاص میں ہے:
"وقوله تعالى (وتعاونوا على البر والتقوى) يقتضي ظاهره إيجاب التعاون على كل ما كان تعالى لأن البر هو طاعات الله وقوله تعالى (ولا تعاونوا على الإثم والعدوان) نهي عن معا"ونة غيرنا على معاصي الله تعالى."
(سورة المائدة،الآية:3 ،ج:3، ص:296، ط:دار إحياء التراث العربي)
سنن ترمذی میں ہے:
" عن أنس بن مالك قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم في الخمر عشرة: عاصرها، ومعتصرها، وشاربها، وحاملها، والمحمولة إليه، وساقيها، وبائعها، وآكل ثمنها، والمشتري لها، والمشتراة له."
( أبواب البيوع، باب النهي عن أن يتخذ الخمر،2 / 580، ط: دار الغرب الإسلامي )
ترجمہ: ’’رسول اللہ ﷺ نے شراب کے بارے میں ان دس افراد پر لعنت فرمائی ہے: شراب نچوڑنے والا، جس کے لیے شراب نچوڑی جائے، شراب پینے والا، اور شراب کو اٹھا کر لے جانے والا، اور جس کی طرف شراب اٹھا کر لے جائی جائے، اور شراب پلانے والا، اور شراب بیچنے والا، اور اس کی قیمت وصول کر کے کھانے والا، اور اسے خریدنے والا اور جس کے لیے خریدی جائے‘‘۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100584
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن