
ایک شخص کی زمین تھی، اس نے بھائی کو حوالہ کیا سنبھالنے کے لیے، اور کہا کہ جو فصل ہوگی اس میں سے ایک تہائی آپ کا، بقیہ میرا۔ اس بھائی نے اس میں درخت لگائے، حالانکہ اس شخص نے صراحتاً اس کی اجازت نہیں دی تھی، اور کچھ درخت اس میں خود اُگے، اور کئی سالوں تک اس بھائی نے ان درختوں میں سے اپنے استعمال کے لیے کاٹے بھی ہیں۔ اب اصل زمین کا مالک ان درختوں میں سے اپنے لیے کاٹنے کا ارادہ رکھتا ہے، لیکن سنبھالنے والے بھائی کے بیٹے کہہ رہے ہیں کہ ان میں ہمیں بھی حصہ دینا پڑےگا؛ اس لیے کہ اس میں کچھ درخت ہمارے والد صاحب نے لگائے تھے، جبکہ اس سے پہلے جتنے درخت اس سنبھالنے والے بھائی نےکاٹے یا اس کے بیٹوں نے، اس میں سے اصل مالک کو کچھ بھی نہیں دیا۔
تو کیا سنبھالنے والے بھائی کے بیٹوں کو ان درختوں میں سے حصہ دینا اصل مالک پر ضروری ہے یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں جو درخت بھائی نے لگائے تھےوہ درخت اسی بھائی کے شمار ہوں گے ، اور ان کے بارے میں زمین کے مالک کو اختیار ہے کہ وہ دوسرے بھائی یا اب ان کی اولاد کو اسے اکھاڑ کر لے جانے کا پابند بنائے یا ان کو رہنے دیں، اگر درخت اکھاڑنے سے زمین کو نقصان پہنچتاہو، تو ایسی صورت میں مالکِ زمین کو اختیار ہے، چاہے تودرخت اکھاڑنے کا کہے، اور زمین کے نقصان کا تاوان لے، یا درخت کو رہنے دے، اور اکھڑے ہوئے درختوں کی قیمت ادا کردے۔ لیکن بہتر صورت یہ ہے کہ فریقین آپس کی مصالحت سے ان کی قیمت مقررکرلیں ، اور وہ قیمت زمین کا مالک درخت لگانے والوں کو ادا کردے۔باقی جو درخت خود اگے ہیں وہ زمین کے مالک کے ہوں گے اس میں دوسرے کا حق نہیں ہے۔
فتاوی عالمگیریہ میں ہے:
" حراث غرس أشجارا في أرض بغير أمر صاحب الأرض فلما كبرت الأشجار اختصما فيها، فإن كان رب الأرض مقرا بأن الأشجار غرسها الحراث من ملك نفسه فهي للحراث لكن لا تطيب له ديانة فيما بينه وبين الله تعالى إن كان غرس بغير أمره، وإن كان غرس بأمره من غير شرط شركة تطيب له، كذا في الفتاوى الكبرى... أكار غرس أشجارا في أرض الدهقان ومضت مدة المعاملة، إن غرسها للدهقان فهو متبرع، وإن أمر الدهقان بشرائها وغرسها فهي للدهقان، وعلى الدهقان المال الذي اشترى به الأشجار، وإن غرسها لنفسه بإذن الدهقان فهي للأكار ويطالبه الدهقان بتسوية الأرض.
(کتاب المعاملات، الباب الثاني في المتفرقات، ج: 5، ص: 282،281، ط: رشیدیه)
فتاوی شامی میں ہے:
"(ومن بنى أو غرس في أرض غيره بغير إذنه أمر بالقلع والرد) لو قيمة الساحة أكثر كما مر (وللمالك أن يضمن له قيمة بناء أو شجر أمر بقلعه)
(قوله بغير إذنه) فلو بإذنه فالبناء لرب الدار، ويرجع عليه بما أنفق جامع الفصولين من أحكام العمارة في ملك الغير".
(کتاب الغصب، ج: 6، ص: 194، ط: ایچ ایم سعید)
تکملہ البحرالرائق میں ہے:
" لو غرس رجل تالة نفسه في أرض غيره فلصاحب الأرض أن يأخذه بقلعها، وإن كان القلع يضر الأرض أعطاه صاحب الأرض قيمة شجرته مقلوعة كذا قيل وفي التتمة يوم يختصمان وعلى قياس مسألة الزرع الذي تقدم ذكرها يمكن أن يقال أعطاه صاحب الأرض قيمة شجرة مستحقة القلع وفي التتمة سئل عمن غرس أرض الغير غرسا فكبر هل لصاحب الأرض أن يقول: أدفع لك قيمته ولا تقلعه فقال لا إنما للغارس أن يقلعه ويضمن النقصان إن ظهر في الأرض نقصان، وإنما لصاحب الأرض الأمر بالقلع فحسب وسئل عنها علي بن أحمد فقال للغارس قيمة الأغصان حين غرسها إذا كان في قلعها ضرر بالأرض ولم يتعرض هل يضمن القيمة وقت الغرس أو وقت القلع.
وسئل الخجندي عمن غرس في أرض غيره فنبت هل للغارس أن يقلعها فقال له أن يقلعها إن لم تنقص الأرض۔"
(كتاب الغصب، ج: 8، ص: 127، ط: دارالكتاب الاسلامي)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144712101298
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن