
کیا میں اپنی دیوار کو سائن بورڈ کےلیے کسی کمپنی کو کرایہ پر دے سکتاہوں یا نہیں؟جبکہ کمپنی اپنی مرضی کے اشتہارات اس پر لگائے گی ،اب ہمیں پتہ نہیں کہ اس میں تصویر والے اشتہارات بھی ہوسکتے ہیں اور بغیر تصویر والےاشتہارات بھی ہوسکتے ہیں۔
نوٹ :جبکہ ایک مفتی صاحب کے بقول اس کی مثال کرایہ پر مکان دینے کی طرح ہے ،کہ اس مکان کرایہ دار کی طرف سے ناجائز امور کابھی امکان ہے ،لیکن اس کے جواز میں کوئی شک نہیں ۔
صورت مسئولہ میں اگر یہ یقین یاظن غالب ہو کہ مذکورہ کمپنی اس دیوار پر غیر شرعی اور جاندار اشیاء پر مشتمل اشتہارات لگائے گی تو ایسی صورت میں اپنی دیوار ایسی کمپنی کو کرایہ پر دینا جائز نہیں ،اور اگر یہ یقین یاظن غالب نہ ہو تو ایسی صورت میں دیوار کمپنی کو سائن بورڈ کےلیے کرایہ پر دینے کی شرعا گنجائش ہوگی ۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(و) جاز (إجارة بيت بسواد الكوفة) ...(ليتخذ بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر) وقالا لا ينبغي ذلك لأنه إعانة على المعصية وبه قالت الثلاثة زيلعي.(قوله وجاز إجارة بيت إلخ) هذا عنده أيضا لأن الإجارة على منفعة البيت، ولهذا يجب الأجر بمجرد التسليم، ولا معصية فيه وإنما المعصية بفعل المستأجر وهو مختار فينقطع نسبيته عنه، فصار كبيع الجارية ممن لا يستبرئها أو يأتيها من دبر وبيع الغلام من لوطي والدليل عليه أنه لو آجره للسكنى جاز وهو لا بد له من عبادته فيه اهـ زيلعي وعيني ومثله في النهاية والكفاية."
(کتاب الحظر والاباحة ،فصل فی البیع،ج:6،ص: 392،ط:سعید)
وفیہ ایضا:
"(قوله وحمل خمر ذمي)قال الزيلعي: وهذا عنده وقالا هو مكروه " لأنه عليه الصلاة والسلام"لعن في الخمر عشرة وعد منها حاملها" وله أن الإجارة على الحمل وهو ليس بمعصية، ولا سبب لها وإنما تحصل المعصية بفعل فاعل مختار، وليس الشرب من ضرورات الحمل، لأن حملها قد يكون للإراقة أو للتخليل، فصار كما إذا استأجره لعصر العنب أو قطعه والحديث محمول على الحمل المقرون بقصد المعصية اهـ زاد في النهايةوهذا قياس وقولهما استحسان،."
(کتاب الحظر والاباحة ،فصل فی البیع،ج:6،ص: 392،ط:سعید)
البحر الرائق میں ہے:
"قال: رحمه الله (وإجارة بيت ليتخذ بيت نار أو بيعة أو كنيسة أو يباع فيه خمر بالسواد) يعني جاز إجارة البيت لكافر ليتخذ معبدا أو بيت نار للمجوس أو يباع فيه خمر في السواد وهذا قول الإمام وقالا: يكره كل ذلك لقوله تعالى {وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان} [المائدة: 2] وله أن الإجارة على منفعة البيت...الخ."
(كتاب الكراهية،،فصل في البيع ،ج:8،ص:230،ط:دار الكتاب الإسلامي)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"إذا استأجر الذمي من المسلم بيتا ليبيع فيه الخمر جاز عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - خلافا لهما. كذا في المضمرات."
(کتاب الإجارة،الباب السادس عشر،ج:4،ص:449،ط:ألمكتبة ألحبيبة-كوئته)
فتاوی رشیدیہ میں ہے:
مکان کو نا جائز کاموں کے لئے کرایہ پر دینا:
سوال: مکان وغیرہ ایسے لوگوں کو کرایہ پر دینا کہ جو شراب و دیگر محرمات اس میں فروخت کرتے ہوں یا خود افعال خلاف شرع ممنوعات اس میں کریں یا کفار کہ وہ اس میں بت پرستی کریں منع اور داخل اعانت علی المعصیت ہوگا یا نہیں؟
جواب: ایسی کو کرایہ پر دینا مکان کا درست نہیں حسب قول صاحبین کے اور امام صاحب کے سے جواز معلوم ہوتا ہے کہ مکان کرایہ پر دینا گناہ نہیں گناہ بفعل اختیاری مستاجر کے ہے۔ مگر فتویٰ اس پر ہے کہ نہ دیوے کہ اعانت گناہ کی ہے۔لا تعاونوا على الاثم والعدوان۔
نا جائز اشیاء بیچنے والوں کو مکان دکان کرایہ پر دینا:
سوال:نشه فروش کو واسطے فروخت مسکرات کے مکان یا دوکان کرایہ پر دینا جائز ہے یا نہیں اور اس میں حنفیہ کا مذہب اصح کیا ہے؟
جواب:اصح اور فتویٰ اس پر ہے کہ نہ دیوے ۔
(کتاب الاجرۃ،اجرت کے مسائل،ص:513،ط:عالمی مجلس تحفظ اسلام کراچی )
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100544
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن