
موجودہ دور میں شائع ہونے والی دینی و مذہبی کتابوں میں اگر کوئی مصنف اپنی تصنیف کےسرورق پر قرآنی آیات لکھ کر کتاب کی اشاعت کرے، جیساکہ سوال کے ساتھ منسلک کتاب کے سرورق پر مصنف نے کیا ہے، تو کیا اس کی اشاعت جائز ہے؟کیا قاری کو با وضو ہو کر اس کا مطالعہ کرنا پڑے گا؟اگر کوئی جنبی یا ناپاک آدمی غلطی سےاس کتاب کا مطالعہ کرے تو کیا اس کے لیے ایسا کرنا جائز ہے؟ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر اس کتاب کا مطالعہ کرے تو اس کا مداوا کس طرح کیا جائے؟
واضح رہے کہ قرآن کریم یا کسی کتاب کی جس جگہ قرآن کریم کی کوئی آیت لکھی ہو تو اس مقام کو بے وضو چھونا جائز نہیں ہے۔
صورت مسئولہ میں کتاب کے سرورق پر قرآن کریم کی آیت کی اشاعت سے قرآن کریم کو بے وضو ہاتھ لگانے کی نوبت آتی ہےجس سے بچنا مشکل ہے، اس لیے کہ کوئی بھی قاری کتاب کو اٹھاتا ہو یا ہاتھ لگاتا ہو تو سرورق پر درج شدہ آیت پرہاتھ لگنے کا قوی امکان رہتا ہے، لہذا کسی کتاب کے سرورق پر آیت قرآنی درج کرنے سے اجتناب کرنا چاہییے۔ اگر اس سے حصول تبرک یا کسی مناسبت کی طرف اشارہ مقصود ہو تو اس کو کتاب کے اندرونی صفحات پر درج کیا جاسکتا ہے، جس سے یہ خرابی لازم نہیں آئے گی۔
نیز جس مقام پر آیت درج ہو، اس کو بے وضو چھونا جائز نہیں ہے،البتہ نفس کتاب کے مطالعہ میں کوئی حرج نہیں جب کہ اس کا مضمون درست ہو۔
مشکاۃ المصابیح میں ہے:
"عن عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم: أن في الكتاب الذي كتبه رسول الله صلى الله عليه وسلم لعمرو بن حزم: «أن لا يمس القرآن إلا طاهر» . رواه مالك والدارقطني"
(کتاب الطھارة ، باب مخالطة الجنب، الفصل الثاني، ج: 1، ص: 144، ط: المکتب الإسلامي)
رد المحتار میں ہے:
"(و) يحرم (به) أي بالأكبر (وبالأصغر) مس مصحف: أي ما فيه آية كدرهم وجدار، وهل مس نحو التوراة كذلك؟ ظاهر كلامهم لا (إلا بغلاف متجاف) غير مشرز أو بصرة به يفتى، وحل قلبه بعود.
(قوله: أي ما فيه آية إلخ) أي المراد مطلق ما كتب فيه قرآن مجازاً، من إطلاق اسم الكل على الجزء، أو من باب الإطلاق والتقييد. قال ح: لكن لايحرم في غير المصحف إلا بالمكتوب: أي موضع الكتابة كذا في باب الحيض من البحر، وقيد بالآية؛ لأنه لو كتب ما دونها لايكره مسه كما في حيض، القهستاني. وينبغي أن يجري هنا ما جرى في قراءة ما دون آية من الخلاف، والتفصيل المارين هناك بالأولى؛ لأن المس يحرم بالحدث ولو أصغر، بخلاف القراءة فكانت دونه تأمل."
(کتاب الطهارة، سنن الغسل، ج: 1، ص: 173، ط: سعید)
الأشباہ والنظائر میں ہے:
"وكذا قولهم بكفره إذا قرأ القرآن في معرض كلام الناس، كما إذا اجتمعوا فقرأ {فجمعناهم جمعا} ، وكذا إذا قرأ {وكأسا دهاقا} عند رؤية كأس.
وله نظائر كثيرة في ألفاظ التكفير، كلها ترجع إلى قصد الاستخفاف به."
(الفن الأول، القاعدة الثانیة ، ص: 23، ط: دار الکتب العلمیة)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وليس بمستحسن كتابة القرآن على المحاريب والجدران لما يخاف من سقوط الكتابة وأن توطأ."
(الباب السابع، الفصل الثاني، ج: 1، ص: 109، ط: دار الفکر)
البرھان فی علوم القرآن میں ہے:
"النوع الثلاثون: في أنه هل يجوز في التصانيف والرسائل والخطب استعمال بعض آيات القرآن ... وهل يقتبس منه في شعر ويغير نظمه بتقديم وتأخير وحركة إعراب ... جوز ذلك بعضهم للمتمكن من العربية وسئل الشيخ عز الدين فقال ورد عنه صلى الله عليه وسلم: "وجهت وجهي" والتلاوة {إني وجهت وجهي}"
(النوع الثلاثون، ج: 1، ص: 481، ط: دار إحیاء الکتب العربیة)
جواھر البلاغہ میں ہے :
"وتزداد براعة المطلع حسناًَ، إذا دلت على المقصود باشارة لطيفة وتسمى براعة استهلال وهي أن يأتي الناظم، أو الناثر: في ابتداء كلامه بما يدلّ على مقصوده منه، بالاشارة - لا بالتصريح."
(علم البدیع، انواع لاجناس اللفظي، ص: 343، ط: المکتبة العصریة)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144705101098
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن