بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دیگر ورثاء کی موجودگی میں ساری جائیداد ایک بیٹے کو دینے کا حکم


سوال

والد صاحب حیات ہیں، اور وہ اپنی ساری جائیداد اپنے ایک بیٹے کو دینا چاہتے ہیں، حالاں کہ اس کے علاوہ مزید دو بیٹے اور چار بیٹیاں بھی موجود ہیں، جب کہ والدہ کا انتقال ہو چکا ہے۔

تو کیا والد صاحب کے لیے ایسا کرنا درست ہے؟ اور شرعی طور پر اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں آپ کے والد صاحب کا اپنی ساری جائیداد صرف ایک بیٹے کو دینا، اور دیگر ممکنہ ورثاء (یعنی بیٹے اور بیٹیوں) کو محروم کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔ ایسا کرنے کی صورت میں والد صاحب گناہ گار ہوں گے؛ کیونکہ شریعتِ مطہرہ میں ہبہ (گفٹ) کے معاملے میں تمام اولاد خواہ بیٹے ہوں یا بیٹیاں، سب کے درمیان عدل و انصاف اور برابری کا حکم دیا گیا ہے۔ ان میں سے کسی ایک کو ساری جائیداد دینا، یا بلا وجۂ شرعی کسی کو کم اور کسی کو زیادہ دینا شرعاً درست نہیں ہے۔

زندگی میں جائیداد کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ والد اپنی جائیداد میں سے اپنے لیے جتنا چاہے رکھ لیں، تا کہ بوقتِ ضرورت کام آئے۔ اس  کےبعد باقی تمام جائیداد اپنے تمام بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان برابری کی بنیاد پر تقسیم کردیں، یعنی جتنا بیٹے کو دے، اتنا ہی بیٹی کو بھی دے، نہ کسی کو محروم کرے اور نہ ہی بلا وجہ کمی بیشی کرے۔

البتہ اولاد میں سے کسی کو کسی معقول وجہ کی بنا پر بنسبت اوروں کے کچھ زیادہ دینا چاہے، تو دے سکتے ہیں، یعنی کسی کی کثرتِ شرافت و دینداری کے، یا زیادہ خدمت گزار ہونے، یا غریب ہونے کی بنا پر دوسروں کی بنسبت کچھ زیادہ دینے کی گنجائش ہوگی۔

حدیث شریف میں ہے:

"عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة». رواه ابن ماجه."

(مشکاۃالمصابیح، باب الوصايا، الفصل الثالث، رقم الحديث:3078، ج:2، ص: 926، ط:المكتب الإسلامي بيروت)

ترجمہ: ”حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کی  میراث کاٹے گا (یعنی اسے محروم کرے گا) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی جنت کی میراث کاٹ لے گا، یعنی اسے بھی جنت سے محروم کردے گا۔“

ایک اور حدیث میں ہے:

"عن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاما فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا، قال: «فأرجعه». وفي رواية: أنه قال: «أيسرك أن يكونوا إليك في البر سواء؟» قال: بلى قال: «فلا إذن». وفي رواية: أنه قال: أعطاني أبي عطية فقالت عمرة بنت رواحة: لا أرضى حتى تشهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني أعطيت ابني من عمرة بنت رواحة عطية فأمرتني أن أشهدك يا رسول الله قال: «أعطيت سائر ولدك مثل هذا؟» قال: لا قال: «فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم». قال: فرجع فرد عطيته. وفي رواية: أنه قال: «لا أشهد على جور»."

(مشکاة المصابیح، كتاب البيوع، باب العطایا، ج:2، ص:909، رقم الحديث:3019، ط:المكتب الإسلامي بيروت)

 ترجمہ: ”حضرت نعمان ابن بشیر  رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (ایک دن ) ان کے والد (حضرت بشیر رضی اللہ عنہ) انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے  اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہدیہ کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟، انہوں نے کہا :  ”نہیں“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی ) اس غلام کو واپس لے لو۔ ایک روایت میں یوں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ تمہارے سب بیٹے تمہاری نظر میں نیکی کے اعتبار سے یکساں ہوں، (یعنی کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تمہارے سب بیٹے تمہارے ساتھ اچھا سلوک کریں، اور سب ہی تمہاری فرمانبرداری اور تعظیم کریں؟) انہوں نے کہا کہ ہاں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اپنے ایک بیٹے (نعمان) کو غلام نہ دو، ایک اور روایت میں آتا ہے کہ ……  آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔“

(مظاہرِ حق، ج:3، ص:193، ط:دارالاشاعت کراچی)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"أقول: حاصل ما ذكره في الرسالة المذكورة أنه ورد في الحديث أنه صلى الله عليه وسلم قال «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال» رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم» فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى وقال محمد: ويعطي للذكر ضعف الأنثى."

(كتاب الوقف، مطلب في المصادقة على النظر، ج:4، ص:444، ط:ايج ايم سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101641

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں