
ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوا ،ورثاء میں بیوہ 3 بیٹے اور 5 بیٹیاں حیات ہیں ۔
البتہ ایک بیٹے کا انتقال والد کی زندگی میں ہوگیا تھا،مجموعی اعتبار سے 4 بیٹے تھے،لیکن اب 3بیٹے حیات ہیں۔
کیا جس بیٹے کا انتقال ہوگیا تھا والد کی زندگی میں اس کے بیٹے کو دادا کی وراثت سے حصہ ملے گا یا نہیں۔؟
والد کے والدین کا پہلے ہی انتقال ہوچکا تھا۔
صورت مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیزوتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو اسے کل مال سے ادا کرنے کے بعد ، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تواسے باقی مال کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو88حصوں میں تقسیم کرکے بیوہ کو 11حصے،ہر ایک بیٹے کو 14 اور ہر ایک بیٹی کو 7حصے ملیں گے۔
صورت تقسیم یہ ہے:
میت: 88/8
| بیوہ | بیٹا | بیٹا | بیٹا | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی | بیٹی |
| 1 | 7 | |||||||
| 11 | 14 | 14 | 14 | 7 | 7 | 7 | 7 | 7 |
فیصد کے اعتبار سے مرحوم کے ترکہ میں سے بیوہ کو 12.5فیصد، مرحوم کے ہر ایک زندہ بیٹے کو 15.90 فیصد اور ہر ایک بیٹی کو 7.95فیصد حصہ ملے گا۔
مرحوم کے حقیقی بیٹوں کی موجودگی میں پوتے کے لیے دادا کے ترکہ میں شرعا کوئی حصہ نہیں ہے،۔تاہم اگر ورثاء اپنے خوشی سے مرحوم بیٹے کی اولاد یا بیوہ کو کچھ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
"وَ اِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُوا الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَ قُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا(سورةالنساء:8)
"ترجمہ:اور جب حاضر ہوں تقسیم کے وقت رشتہ دار اور یتیم اور محتاج تو ان کو کچھ کھالود اس میں سےاور کہہ دو ان کو بات معقول۔"
الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:
"وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه،...."
(کتاب الفرائض، ج: 6، ص: 758، ط:سعید)
وفیہ ایضاً:
"ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل."
(کتاب الفرائض، ج:6، ص: 774، ط:سعید)
وفیہ ایضاً:
"(و) الثاني (أن من أدلى بشخص لا يرث معه) كابن الابن لا يرث مع الابن."
(کتاب الفرائض، ج:6، ص: 780، ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706100047
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن