بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

دیگر بیٹوں کی موجودگی میں پوتوں کا حصہ


سوال

ہمارے والد صاحب کا انتقال ہوا ،ورثاء میں بیوہ 3 بیٹے اور 5 بیٹیاں حیات ہیں ۔

البتہ ایک بیٹے کا انتقال والد کی زندگی میں ہوگیا تھا،مجموعی اعتبار سے 4 بیٹے تھے،لیکن اب 3بیٹے حیات ہیں۔

کیا جس بیٹے کا انتقال ہوگیا تھا والد کی زندگی میں اس کے بیٹے کو دادا کی وراثت سے حصہ ملے گا یا نہیں۔؟

والد کے والدین کا پہلے ہی انتقال ہوچکا تھا۔

جواب

صورت مسئولہ میں مرحوم کے ترکہ کی تقسیم کا شرعی طریقہ  یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے حقوق متقدمہ یعنی تجہیزوتکفین کا خرچہ نکالنے کے بعد اگر مرحوم کے ذمہ کوئی قرض ہو تو  اسے کل مال سے ادا کرنے کے بعد ، اگر مرحوم نے کوئی جائز وصیت کی ہو تواسے باقی مال کے ایک تہائی سے نافذ کرنے کے بعد کل ترکہ منقولہ وغیر منقولہ کو88حصوں میں تقسیم کرکے بیوہ کو 11حصے،ہر ایک بیٹے کو 14 اور ہر ایک بیٹی کو 7حصے ملیں گے۔

صورت تقسیم یہ ہے:

میت: 88/8

بیوہبیٹابیٹابیٹابیٹیبیٹیبیٹیبیٹیبیٹی
17
1114141477777

فیصد کے اعتبار سے مرحوم کے ترکہ میں سے  بیوہ کو 12.5فیصد، مرحوم کے ہر ایک زندہ بیٹے کو 15.90 فیصد اور ہر ایک بیٹی کو 7.95فیصد حصہ ملے گا۔

مرحوم کے حقیقی بیٹوں کی موجودگی میں پوتے کے  لیے دادا کے ترکہ  میں شرعا کوئی حصہ نہیں ہے،۔تاہم اگر ورثاء اپنے خوشی سے مرحوم بیٹے کی اولاد یا بیوہ کو کچھ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"وَ  اِذَا  حَضَرَ  الْقِسْمَةَ  اُولُوا  الْقُرْبٰى  وَ  الْیَتٰمٰى  وَ  الْمَسٰكِیْنُ  فَارْزُقُوْهُمْ  مِّنْهُ  وَ  قُوْلُوْا  لَهُمْ  قَوْلًا  مَّعْرُوْفًا(سورةالنساء:8)

"ترجمہ:اور جب حاضر ہوں تقسیم کے وقت رشتہ دار اور یتیم اور محتاج تو ان کو کچھ کھالود اس میں سےاور کہہ دو ان کو بات معقول۔"

الدر المختار وحاشیہ ابن عابدین میں ہے:

"وشروطه: ثلاثة: موت مورث حقيقة، أو حكما كمفقود، أو تقديرا كجنين فيه غرة ووجود وارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه،...."

(کتاب الفرائض، ج: 6، ص: 758، ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"ثم العصبات بأنفسهم أربعة أصناف جزء الميت ثم أصله ثم جزء أبيه ثم جزء جده (ويقدم الأقرب فالأقرب منهم) بهذا الترتيب فيقدم جزء الميت (كالابن ثم ابنه وإن سفل."

(کتاب الفرائض، ج:6، ص: 774، ط:سعید)

وفیہ ایضاً:

"(و) الثاني (أن من أدلى بشخص لا يرث معه) كابن الابن ‌لا ‌يرث ‌مع ‌الابن."

(کتاب الفرائض، ج:6، ص: 780، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706100047

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں