بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

”دے دو میرا موبائل جلدی، ورنہ طلاق دے رہا ہوں“ کہنے کا حکم


سوال

مجھے طلاق سے متعلق ایک فتوی درکار ہے:

پہلا واقعہ:میری بیوی کا کہنا ہے کہ کسی گھریلو معاملے پر ہماری تکرار ہوئی تھی (وجہ غالباً مالی ہی ہوتی ہے)۔ اس دوران، اس کے بقول، میں نے اسے کہا: ”میں اللہ کو حاضر  ناظر جان کر تمہیں طلاق دے رہا ہوں“۔ میں اس بات کا مکمل انکار کرتا ہوں، کیوں کہ مجھے یقین ہے کہ میں نے یہ الفاظ ہرگز نہیں کہے۔ یہ صرف میری بیوی اور اس کے گھر والوں کا دعویٰ ہے، جب کہ اس موقع پر سسرال والوں میں سے کوئی موجود بھی نہیں تھا؛ اس وقت صرف میں اور میری بیوی موجود تھے۔ میں الحمدللہ نشہ وغیرہ بالکل نہیں کرتا، اس لیے مجھے پورا یقین ہے کہ میں نے یہ الفاظ نہیں کہے۔ اس واقعہ کے بعد ہم میاں بیوی ایک ساتھ رہے ہیں اور ہمارے درمیان ازدواجی تعلق بھی قائم ہوتا رہا ہے۔

دوسرا واقعہ:
مذکورہ واقعہ کے تقریباً ایک سال بعد، ایک موقع پر میری بیوی مجھے میرا موبائل نہیں دے رہی تھی، میں نے اسے مزاح اور ڈرانے کی نیت سے کہا: ”اگر تم نے میرا موبائل واپس نہیں کیا تو میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں، دو میرا موبائل جلدی، ورنہ اگر واپس نہیں کیا تو میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں۔“، اسی دوران میں نے اس سے موبائل چھین بھی لیا۔ یہ الفاظ میں نے طلاق دینے کی نیت سے نہیں بلکہ صرف موبائل واپس لینے کے لیے ڈرانے کی غرض سے کہے تھے۔ میرے ناقص علم کے مطابق، اگر الفاظ ”اگر“کے ساتھ ہوں اور ”طلاق دے رہا ہوں“  کا مطلب ”طلاق دے دوں گا“ہو (یعنی آئندہ کی بات ہو)اور نیت بھی طلاق کی نہ ہو، تو طلاق واقع نہیں ہوتی۔ میری نیت بھی صرف موبائل لینا تھی، طلاق دینا ہرگز مقصود نہیں تھا۔

اب سوال یہ ہے کہ:

  1. پہلے واقعہ میں طلاق کا کیا حکم ہے؟ جب کہ میں نے وہ جملہ کہا ہی نہیں، صرف بیوی کا دعویٰ ہے کہ میں نے کہا تھا۔

  2. دوسرے واقعہ میں طلاق کا کیا حکم ہے؟ جب کہ میں نے یہ الفاظ صرف ڈرانے کی نیت سے کہے تھے، اور اس وقت طلاق دینا مقصود نہیں تھا۔

جواب

1:۔پہلے واقعہ میں بیوی دعویدار ہے کہ شوہر (سائل) نے لڑائی کے دوران یہ الفاظ اسے کہے تھے کہ: ”میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر تمہیں طلاق دے رہا ہوں“، جب کہ شوہر مذکورہ الفاظ کا انکاری ہے۔ اس صورتِ حال کے حل کے لیے میاں بیوی کسی مستند اور ماہر مفتی کے سامنے پیش ہو کر فیصلہ کروالیں۔

2:۔دوسرے واقعہ میں سائل کا بیان اگر واقعۃً درست ہے کہ اس نے یہ الفاظ ”اگر تم نے میرا موبائل واپس نہیں کیا تو میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں، دو میرا موبائل جلدی، ورنہ اگر واپس نہیں کیا تو میں تمہیں طلاق دے رہا ہوں“ مستقبل میں طلاق دینے کی دھمکی کے طور پر کہے تھے، اسی وقت طلاق دینے کا ارادہ نہیں کیا تھا، جیسا کہ اندازِ گفتگو، واقعہ کی کیفیت اور جملے کی تکرار سے ظاہر ہوتا ہے اور سائل اس بات پر حلف بھی اٹھالے، تو سائل کی بات معتبر ہوگی، اور مذکورہ الفاظ سے سائل کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، دونوں کا نکاح بدستور برقرار رہے گا۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"ويصح التحكيم فيما يملكان فعل ذلك بأنفسهما وهو حقوق العباد و لايصح فيما لايملكان فعل ذلك بأنفسهما، وهو حقوق الله تعالى حتى يجوز التحكيم في الأموال والطلاق والعتاق والنكاح والقصاص وتضمين السرقة."

( كتاب أدب القاضي، الباب الرابع والعشرون فى التحكيم، ج: 3، ص: 397، ط:دار الفكر بيروت)

المحیط البرہانی میں ہے:

"وبالعربية قوله: أطلق، لا يكون طلاقا في أنه ‌دائر ‌بين ‌الحال والاستقبال ‌فلم ‌يكن ‌تحقيقا مع الشك حتى أن موضع علمت استعماله للحال كان تحقيقا كقول الكافر: أشهد أن لا إله إلا الله، وكقول الشاهد: أشهد أن لهذا على هذا كذا، وكقول الحالف: بالله لأفعلن كذا، وهذا الاحتمال بالعربية."

(كتاب الطلاق، ‌‌الفصل السابع والعشرون في المتفرقات، ج:3، ص:472، ط:دار الكتب العلمية، بيروت)

العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ میں ہے:

"صيغة ‌المضارع ‌لا ‌يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام."

(كتاب الطلاق، ج:1، ص:38، ط:دار المعرفة)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"مطلب فيمن لو ادعى الاستثناء وأنكرته الزوجة. (قوله ويقبل قوله إلخ) قال الخير الرملي في حواشي المنح: لم يذكر أهو بيمينه وكذلك صاحب البحر والنهر والكمال، ولم أره لأحد، وينبغي على ما هو المعتمد أن يكون بيمينه إذا أنكرته الزوجة، وأما إذا لم تنكره فلا يمين عليه اللهم إلا إذا اتهمه القاضي. اهـ."

(كتاب الطلاق، باب التعليق، ج:3، ص:369، ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144705101665

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں