بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

25 صفر 1448ھ 09 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

دعوتوں میں مرغی کا گوشت کھانے کا حکم


سوال

ہمارا یہاں دعوتوں کے کھانے میں جو مرغی دی جاتی ہے اس پر تسمیہ پڑھا گیا یا نہیں، یہ معلوم نہیں ہوتا تو ان کے   کھانے کا کیا حکم ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ دعوتوں وغیرہ میں پیش کیا جانے والا مرغی یا دیگر حلال جانور کا گوشت جس کے بارے میں یہ معلوم نہ ہو کہ ذبح کے وقت تسمیہ (بسم اللہ) پڑھی گئی ہے یا نہیں، اس کے متعلق شرعی اصول یہ ہے کہ مسلمانوں کے معاشرے میں "ظاہرِ حال" کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ یعنی جب ایک مسلمان گوشت پیش کرتا ہے یا اسے بیچتا ہے، تو یہی مانا جائے گا کہ اس نے شرعی طریقے سے ذبح کیا ہے، کیونکہ مسلمانوں کا عمومی حال شرعی احکام (جیسے ذبح کے وقت تسمیہ پڑھنا) کی رعایت کرنا ہے، لہذا مسلمانوں کی دعوتوں میں مرغی وغیرہ کے گوشت کے کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے، اور اس بارے میں خواہ مخواہ وہم اور شک میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"رجل دخل على قوم من المسلمين يأكلون طعاما ويشربون شرابا فدعوه إليه فقال رجل مسلم ثقة قد عرفه: هذا اللحم ذبيحة مجوسي وهذا الشراب قد خالطه الخمر وقال الذين دعوه إلى ذلك: ليس الأمر كما قال وهو حلال فإنه ينظر إلى حالهم فإن كانوا عدولا لا يلتفت إلى قول ذلك الواحد لأن خبر الواحد لا يعارض خبر الجماعة فإن خبر الجماعة حجة في الديانات والأحكام وخبر الواحد ليس بحجة في الأحكام ولأن الظاهر من حال المسلمين أنهم لا يأكلون ذبيحة المجوسي ولا يشربون ما خالطه الخمر فخبر الواحد في معارضة خبرهم خبر مستنكر فلا يقبل،"

(كتاب الإستحسان، ج: 10، ص: 163، ط: دار المعرفة)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"‌رجل ‌اشترى ‌من ‌التاجر ‌شيئا هل يلزمه السؤال أنه حلال أم حرام قالوا ينظر إن كان في بلد وزمان كان الغالب فيه هو الحلال في أسواقهم ليس على المشتري أن يسأل أنه حلال أم حرام ويبنى الحكم على الظاهر، وإن كان الغالب هو الحرام أو كان البائع رجلا يبيع الحلال والحرام يحتاط ويسأل أنه حلال أم حرام."

(کتاب البیوع، الباب العشرون، ج: 3، ص: 210، ط: المكتبة الرشیدیة كوئته)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144801101677

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں