
میں طواف کے حوالے سے ایک مسئلہ دریافت کرنا چاہتا ہوں۔ موجودہ انتظامات کے تحت مطاف میں جانے کے لیے احرام ضروری ہوتا ہے، جبکہ اوپر کی منزلوں (چھتوں) پر طواف کافی طویل ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے بعض لوگ صاف جوتے یا سینڈل استعمال کرتے ہیں۔ کچھ حضرات وہی جوتے پہن کر طواف کرتے ہیں جو باہر بھی استعمال کرتے ہیں، جبکہ بعض خاص طور پر صاف جوتے رکھ لیتے ہیں۔
اب درج ذیل امور کے متعلق شرعی راہنمائی درکار ہے:
1. کیا طواف کے دوران صاف جوتے یا سینڈل پہننا جائز ہے؟
2. کیا اس میں کوئی کراہت یا بے ادبی کا پہلو تو نہیں پایا جاتا؟
3. اس سلسلے میں شریعت کی بہتر اور محتاط صورت کیا ہے؟
واضح رہے کہ مسجدِ حرام اور مطاف میں جوتے/ چپل پہن کر جانا ادب کے خلاف ہے،اس لیے بہتر تو یہی ہے کہ ننگے پاؤں طواف کیا جائے، البتہ اگر کسی شخص کے پاؤں میں زخم یا تکلیف ہو یا اس کے بڑھ جانے کا اندیشہ ہو یا کوئی اور مرض ہو،تو اس کے لیے نجاست اور گندگی سے پاک و صاف جوتے/ چپل پہننے کی گنجائش ہے، لیکن بہتر یہ ہے کہ ایسا شخص مسجدِ حرام اور مطاف کے لیے جوتوں/ چپل کا علیحدہ پاک صاف جوڑا رکھ لے جو کہیں اور استعمال نہ کرے۔
نیز اگر کسی شخص کو حالتِ احرام میں مذکورہ اعذار کی بنا پر مسجدِ حرام یا مطاف وغیرہ میں چپل پہننے کی ضرورت ہو تو ایسی چپل استعمال کرے جو حالتِ احرام میں پہننا جائز ہو،یعنی ایسی چپل ہو جس میں دو نوں ٹخنے ،قدم کے بیچ میں ابھری ہوئی ہڈی(جہاں عموما بال اگتے ہیں اور جوتے کے تسمے باندھے جاتے ہیں ) ، ایڑی اور ایڑی سے اوپر پاؤں کا حصہ کھلا رہے،البتہ عورتیں موزے اور ہر قسم کے چپل اور جوتے پہن سکتی ہیں۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله: و صلاته فيهما) أي في النعل و الخف الطاهرين أفضل؛ مخالفةً لليهود، تتارخانية. و في الحديث: " صلوا في نعالكم، و لاتشبهوا باليهود، رواه الطبراني كما في الجامع الصغير رامزًا لصحته. وأخذ منه جمع من الحنابلة أنه سنة، و لو كان يمشي بها في الشوارع؛ لأنّ النبي صلى الله عليه وسلم وصحبه كانوا يمشون بها في طرق المدينة ثم يصلون بها. قلت: لكن إذا خشي تلويث فرش المسجد بها ينبغي عدمه و إن كانت طاهرةً. و أما المسجد النبوي فقد كان مفروشًا بالحصى في زمنه صلى الله عليه وسلم بخلافه في زماننا، و لعل ذلك محمل ما في عمدة المفتي من أن دخول المسجد متنعلًا من سوء الأدب، تأمل."
(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما ويكره فيها، ج:1، ص:657، ط: سعید)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"ولا يلبس مخيطا قميصا أو قباء أو سراويل أو عمامة أو قلنسوة أو خفا إلا أن يقطع الخف أسفل من الكعبين، كذا في فتاوى قاضي خان والكعب هنا المفصل الذي في وسط القدم عند معقد الشراك كذا في التبيين."
(کتاب المناسک , الباب الرابع فیما یفعله المحرم بعد الاحرام ج: 1 ص: 224 ط: رشيدية)
فتاوی شامی میں ہے:
"(و خفين إلا أن لايجد نعلين فيقطعهما أسفل من الكعبين) عند معقد الشراك.
(قوله: وخفين) أي للرجال فإن المرأة تلبس المخيط و الخفين، كما في قاضي خان قهستاني."
(کتاب الحج ، فصل في الإحرام وصفة المفرد،ج: 2، ص:490، ط: سعید)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144711101591
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن